(+92) 319 4080233
کالم نگار

رضوان طاہرمبین

رضوان طاہرمبین

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
نگری جامعہ کراچی کی
ایک طرف جہاں ضخیم کتابوں اور دستاویزات کی اہمیت مسلّمہ ہے، وہیں اختصار کی بھی اپنی ضرورت اور اہمیت رہتی ہے۔ بالخصوص وقت کی تنگی میں شاید اب شاید اختصار کی زیادہ اہمیت ہوگئی ہے۔ ایسی ہی ایک کتاب جامعہ کراچی کی میرٹوریس پروفیسر ڈاکٹر نسرین اسلم شاہ نے رقم کی ہے اور اس کا موضوع بھی جامعہ کراچی ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے جامعہ کی تاریخ اور اس کے قیام اور کردار اور اس مادر علمی سے جڑے ہوئے مختلف اہم موضوعات اور عوامل پر قلم اٹھایا ہے اور مختصر انداز اختیار کرتے ہوئے پوری ایک جامع کتاب ترتیب دے دی ہے۔ یہ کتاب جامعہ کے ہر طالب علم کے لیے تو دل چسپ ہے ہی، لیکن عام قارئین بھی اس میں جامعہ کراچی کے حوالے سے چیدہ چیدہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

جامعہ کراچی کے مختلف کلیہ جات اور شعبوں اور ان کا مختصر پس منظر، مرکزی کتب خانے کا قیام، یہاں کے قابل اور ماہر اساتذہ سے لے کر شیوخ الجامعہ کے مختلف ادوارتک کا احوال اس کتاب میں موجود ہے۔ 1950ءکی دہائی میں جامعہ کراچی کی سول اسپتال کے علاقے سے موجودہ جگہ پر منتقلی اور اس کے بعد جامعہ کراچی کا پہلا جلسہ تقسیم اسناد۔ جامعہ کراچی کے اندر ’آئی بی اے‘ سے لے کر مختلف تخصیصی اور تحقیقی مراکز کا قیام، اور ان کے مقاصد کے ساتھ مختلف ’چیئرز‘ کے قیام کے حوالے سے بھی بات کی گئی ہے۔ جامعہ کراچی کے طلبہ کے لیے ضابطۂ اخلاق، مشیران امور طلبہ سے لے کر طلبہ یونین کے عہدے داران تک کا ذکر ماضی کے دل فریب دور کی یادوں میں لے جاتا ہے کہ اب تو ’طلبہ یونین‘ پر پابندی لگے ہوئے بھی 40 برس سے زائد ہو چکے ہیں۔

اس کتاب میں جامعہ کراچی کے حوالے سے اختر حسین رائے پوری، ڈاکٹر ابو للیث صدیقی، ڈاکٹر منظور احمد اور دیگر کے رشحات قلم بھی جمع کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ جامعہ کراچی کی ٹرانسپورٹ، جامعہ میں موجود بینک، ملازمین کے لیے ڈے کیئر سینٹر اور طلبہ کے ہاسٹل کے حوالے سے معلومات ملتی ہیں۔ مختلف ہم نصابی پروگرام، ڈگریاں، کتب خانے، اور اس کے علاوہ چیدہ چیدہ اہم واقعات کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ جامعہ کراچی میں مساجد اور امام بارگاہوں سے لے کر گرجے اور مندر تک کی موجودگی بھی قارئین کو ایک ’خبر‘ کی طرح ملتی ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ کراچی کا قبرستان اور وہاں مدفون شیوخ الجامعہ اور دیگر اہم شخصیات، ملازمین کی انجمنوں اور اس مادر علمی سے فارغ التحصیل مختلف نمایاں شخصیات کے اسم ہائے گرامی بھی اس کتاب کی زینت ہیں۔

گویا جامعہ کراچی کے ہر طالب علم کے لیے یہ اس مادر عملی کی جامع معلومات کا ایک خزانہ ہے۔ جامعہ کی بہت سی اہم تصاویر بھی اس کتاب میں شامل ہیں۔ اشاعت انجمن ترقی نسواں (0300-2124055) جامعہ کراچی سے کی گئی ہے، قیمت 1000 روپے ہے۔

کالم نگار : رضوان طاہرمبین
| | |
33