(+92) 319 4080233
کالم نگار

نوید مسعود ہاشمی

نوید مسعود ہاشمی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
دین کے نام پر کمائی گئی عزت کا اصل امتحان
سب سے زیادہ خوف اُس دن کا ہے جب دین کے نام پر کمائی گئی عزت، اللہ کے دربار میں ایک ایک کرکے گواہی دینے لگے۔ وہ دن جب نہ شہرت کام آئے گی، نہ خطابت، نہ علم کی نمائش، نہ لوگوں کی تعریف، اور نہ ہی سوشل میڈیا کی مقبولیت۔ وہاں صرف اخلاص، سچائی اور اعمال کا وزن ہوگا۔ انسان اپنی زندگی میں جو کچھ بھی کرتا ہے، اس کا حساب ضرور دینا ہے، لیکن دین کے نام پر کی گئی ہر بات، ہر عمل اور ہر دعویٰ ایک خاص ذمہ داری کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ اگر اس ذمہ داری کو دیانت داری سے ادا نہ کیا گیا تو یہی عزت انسان کے خلاف گواہ بن جائے گی۔

اللہ تعالیٰ نے دین کو دنیا کمانے کا ذریعہ نہیں ،بلکہ انسانیت کی ہدایت اور آخرت کی کامیابی کا راستہ بنایا ہے۔ انبیاء کرام علیہم السلام نے ہمیشہ یہی اعلان کیا کہ وہ اپنی دعوت پر لوگوں سے کسی دنیاوی معاوضے کے طالب نہیں۔ ان کا مقصد صرف اللہ کی رضا اور انسانوں کی اصلاح تھا۔ یہی اخلاص دین کی اصل روح ہے۔ جب دین کو شہرت، اقتدار، دولت یا ذاتی مفاد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو اس کی برکت ختم ہونے لگتی ہے، اور انسان بظاہر عزت پا کر بھی حقیقت میں خسارے کا سودا کر لیتا ہے۔

آج کے دور میں دین کی خدمت کے مواقع پہلے سے کہیں زیادہ ہیں۔ ایک تقریر، ایک تحریر یا ایک ویڈیو لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ ایک عظیم نعمت بھی ہے اور بہت بڑی آزمائش بھی۔ اگر نیت خالص ہو تو یہی ذرائع صدقۂ جاریہ بن جاتے ہیں، لیکن اگر مقصد لوگوں کی واہ واہ، شہرت یا مالی منفعت ہو تو یہی ذرائع وبالِ جان بھی بن سکتے ہیں۔ اس لیے ہر صاحبِ علم، ہر مبلغ، ہر خطیب اور ہر لکھنے والے کو بار بار اپنے دل کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ وہ جو کچھ کر رہا ہے، اس کا اصل مقصد اللہ کی رضا ہے یا اپنی ذات کی بلندی۔

وہ آوازیں جو حق کے لیے بلند ہونا تھیں مگر مصلحت کے ہاتھوں خاموش ہو گئیں، قیامت کے دن سوال بن کر سامنے آئیں گی۔ بعض اوقات انسان اپنے منصب، تعلقات یا مفادات کی وجہ سے حق بات کہنے سے گریز کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ظلم ہو رہا ہے، ناانصافی پھیل رہی ہے یا دین کی غلط تعبیر کی جا رہی ہے، مگر خاموشی اختیار کر لیتا ہے۔ یہ خاموشی وقتی طور پر فائدہ دے سکتی ہے، لیکن اللہ کے ہاں ہر خاموشی کا بھی حساب ہوگا۔ حق کا ساتھ دینا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، مگر یہی ایمان کا تقاضا ہے۔

اسی طرح وہ قلم جو سچائی کے ساتھ لکھ سکتے تھے۔۔۔۔ مگر بک گئے، وہ بھی ایک دن گواہی دیں گے۔ قلم صرف الفاظ نہیں لکھتا بلکہ تاریخ کا رخ بھی متعین کرتا ہے۔ جب لکھنے والا حق کو جانتے ہوئے چھپا دیتا ہے، یا کسی فائدے کی خاطر باطل کو حق بنا کر پیش کرتا ہے، تو وہ صرف اپنی ذمہ داری سے غفلت نہیں برتتا بلکہ معاشرے کی فکری بنیادوں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔ ایک سچا قلمکار نسلوں کی رہنمائی کرتا ہے، جبکہ ایک بکا ہوا قلم گمراہی کو فروغ دیتا ہے۔

وہ زبانیں جنہیں لوگوں کو اللہ سے جوڑنا تھا مگر انہوں نے لوگوں کو اپنی ذات کا اسیر بنا لیا، ان کا انجام بھی قابلِ غور ہے۔ دین کی دعوت کا مقصد یہ نہیں کہ لوگ کسی شخصیت کے گرویدہ بن جائیں، بلکہ مقصد یہ ہے کہ لوگوں کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہو۔ اگر کوئی داعی اپنی ذات، اپنی جماعت یا اپنے مفاد کو دین پر مقدم کر دے تو وہ دعوت کے اصل مقصد سے دور ہو جاتا ہے۔ حقیقی کامیابی یہ ہے کہ انسان لوگوں کو اللہ کی طرف بلائے، نہ کہ اپنی طرف۔

دین کے نام پر عزت مل جانا بذاتِ خود کوئی کامیابی نہیں، بلکہ اصل کامیابی اس عزت کو اللہ کی رضا کے مطابق استعمال کرنا ہے۔ کتنے ہی لوگ دنیا میں بڑے عالم، مشہور خطیب یا معروف مذہبی رہنما سمجھے جاتے ہیں، مگر اللہ کے ہاں معیار صرف اخلاص، تقویٰ اور صداقت ہے۔ اسی طرح کتنے ہی ایسے گمنام لوگ ہیں جنہیں دنیا نہیں جانتی، مگر ان کی خاموش عبادت، خالص نیت اور بے لوث خدمت انہیں اللہ کے نزدیک بلند مقام عطا کر دیتی ہے۔ اس لیے انسان کو ہمیشہ لوگوں کی نظروں سے زیادہ اللہ کی نظر کی فکر کرنی چاہیے۔

دنیا کی تعریف چند دن کی ہے۔ آج لوگ تعریف کرتے ہیں، کل بھول جاتے ہیں۔ آج شہرت عروج پر ہوتی ہے، کل کسی اور کے حصے میں چلی جاتی ہے۔ لیکن آخرت کا حساب ہمیشہ کا ہے۔ وہاں نہ وقتی مقبولیت کام آئے گی، نہ دنیاوی اعزازات۔ وہاں صرف وہی کامیاب ہوگا جس نے اپنی نیت کو پاک رکھا، اپنے علم پر عمل کیا، اور دین کو تجارت نہیں بلکہ امانت سمجھ کر آگے پہنچایا۔

ہر مسلمان، خصوصاً دین سے وابستہ افراد، کو چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے دل کا محاسبہ کرے۔ کیا ہماری عبادت صرف اللہ کے لیے ہے؟ کیا ہماری دعوت اخلاص پر مبنی ہے؟ کیا ہمارے فیصلے حق کے مطابق ہیں یا مفادات کے تابع؟ کیا ہماری زبان لوگوں کو اللہ کے قریب کر رہی ہے یا اپنی شخصیت کے گرد جمع کر رہی ہے؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جواب ہمیں دنیا ہی میں تلاش کرنے چاہییں، کیونکہ قیامت کے دن جواب دینے کا موقع ہوگا، اصلاح کا نہیں۔

خوش نصیب وہ ہے جو دین سے دنیا نہ کمائے بلکہ اگر ضرورت پڑے تو دنیا کھو کر بھی اپنا دین بچا لے۔ تاریخِ اسلام ایسے عظیم انسانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے حق کے لیے مال، منصب، شہرت بلکہ اپنی جان تک قربان کر دی، مگر دین پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ یہی لوگ حقیقی کامیاب ہیں، کیونکہ انہوں نے فانی دنیا کے بجائے ہمیشہ رہنے والی آخرت کو ترجیح دی۔ ہر صاحبِ ایمان کو یہ دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ! ہمیں دین کو خالص تیری رضا کے لیے سمجھنے، اس پر عمل کرنے اور اسے آگے پہنچانے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری زبان، ہمارا قلم، ہمارا علم اور ہماری عزت سب تیرے دین کی خدمت کا ذریعہ بنیں، نہ کہ ہمارے نفس کی تسکین کا۔ ہمیں ریا، شہرت طلبی، مفاد پرستی اور منافقت سے محفوظ رکھ، تاکہ قیامت کے دن ہمارا ہر عمل ہمارے حق میں گواہی دے، ہمارے خلاف نہیں۔

کالم نگار : نوید مسعود ہاشمی
| | |
12