(+92) 319 4080233
کالم نگار

نوید مسعود ہاشمی

نوید مسعود ہاشمی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
بیٹوں کی اقسام اور والدین کی عظمت
بیٹے پانچ قسموں کے ہوتے ہیں:
۱: پہلے وہ جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا حُکم دیں تو کہنا نہیں مانتے، یہ عاق ہیں۔

۲: دوسرے وہ ہیں جنہیں والدین کسی کام کو کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بے دلی اور کراہت کے ساتھ، یہ کسی قسم کے اجر سے محروم رہتے ہیں۔

۳: تیسری قسم کے بیٹے وہ ہیں جنہیں والدین کوئی کام کرنے کا کہہ دیں تو کر تو دیتے ہیں مگر بڑبڑاتے ہوئے، سُنا سُنا کر، احسان جتلا کر، بکواس بازی کر کر کے۔ یہ کام کر کے بھی گھاٹے میں ہیں اور گناہ کما رہے ہیں۔

۴: چوتھی قسم کے وہ بیٹے ہیں جنہیں والدین کوئی کام بتا دیں تو خوش دلی سے کرتے ہیں، یہ اجر کماتے ہیں اور ایسے بیٹے بہت کم ہوتے ہیں۔

۵: پانچویں قسم کے وہ بیٹے ہیں جو والدین کی ضرورتوں کے کام اُن کے کہنے سے پہلے کر دیتے ہیں، یہ خوش بخت بیٹوں کی نادر قسم ہیں۔

آخری دو قسم کے بیٹے؛ ان کی عمر میں برکت، رزق میں وسعت، ان کے معاملات کی آسانی اور ان کے سینوں میں پڑی راحت اور وسعت کے بارے میں کچھ نا پوچھیئے، یہ تو بس اللہ “اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے”۔

ایک چھوٹا سا سوال ہے ہر اُس کرم فرما کیلئے جو اس وقت یہ پڑھ رہا ہے: آپ اوپر بیان کیئے گئے بیٹوں کی قسموں میں سے کون سی قسم کے بیٹے ہیں؟

(بھاگ کر اپنی ماں کے سر پر بوسہ دینے سے پہلے) اپنے آپ سے یہ پوچھ کر دیکھیئے کہ والدین کے ساتھ “بِر” یا حُسن سلوک یا راستبازی ہوتی کیا ہے؟

یہ حُسن سلوک؛ ماں یا باپ کے سر پر ایک بوسہ لے لینے کا نام نہیں ہے، ناں ہی ان کے ہاتھوں پر یا حتی کہ اُن کے پاؤں پر بوسہ لینے کا نام ہے۔ کہیں یہ کر کے تو اس گمان میں میں ناں پڑ جائے کہ تو نے ان کی رضا کو پا لیا ہے۔

حُسن سلوک یہ ہے کہ تو اُن کے دل میں آئی ہوئی خواہش کو محسوس کرے اور پھر اُن کے حُکم کا انتظار کیئے بغیر اس خواہش کو پورا کر دے۔حُسن سلوک یہ ہے کہ تو یہ جاننے کی کوشش میں لگا رہے کہ انہیں کونسی بات خوشی دیتی ہے اور پھر اُس کام کو جلدی سے کر ڈالے۔ اور تو یہ جاننے کی کوشش کرے کہ انہیں کس بات سے دُکھ پہنچتا ہے اور پھر اس کوشش میں رہے کہ وہ تجھ سے ایسی کوئی چیز کبھی بھی نا دیکھ پائیں۔اُن سے حسن سلوک یہ ہے کہ تجھے ان کا احساس ہو، تو ان کیلیئے بات چیت کا وقت نکالتا ہو، انہیں کسی چیز کے کھانے پینے کی طلب ہو تو حاضر کر دیتا ہو بھلے یہ ایک چائے کا کپ ہی کیوں ناں ہو۔ حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تو اُن کے آرام اور راحت کا خیال رکھے بھلے اس کیلیئے اپنی راحت کو ہی کیوں نا تیاگنا پڑے۔ اگر تیری دوستوں میں شب بیداری انہیں شاق گزرتی ہے تو تیرا جلدی سو جانا بھی ان کے ساتھ ایک حسن سلوک کی ہی ایک مثال ہے۔ حسن سلوک یہ بھی ہے کہ ان کی خاطر اپنی دعوتیں ضیافتیں چھوڑ دے اگر اس سے تیرا اُن کے ساتھ میل جول متاثر ہوتا ہے تو۔ ایک مناسب ریسٹورنٹ پر ان کے ساتھ کھانا، حج و عمرہ میں ان کی راحت کے پیش نظر اچھے ہوٹل میں ان کے قیام کا بندوبست، حتی کہ کہیں چھوٹی موٹی تفریح اور پکنک جو تیرے والدین کے دل کو سرور دے اور وہ اپنی اس عمر میں بھی خوشی کا احساس پائیں۔ حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تیرے والدین تیرے مال سے مستفیض ہو رہے ہوں بھلے وہ خود کیوں ناں مالدار ہوں۔ اور تیرا یہ جانے بغیر کہ ان کے پاس اب کتنے پیسے ہیں اور انہیں ضرورت ہے بھی یا کہ نہیں تو ان پر خرچ کرتا رہے۔ حس سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کی حتی المقدور راحت تلاش کرتا رہے اور انہوں نے تیری ولادت سے اب تک جو کچھ خدمت کر دی ہے کو کافی سمجھے اور اب ان کے احسانات کے بدلے میں کچھ نا کچھ کرتا رہے۔ حسن سلوک یہ بھی ہے کہ تو ان کے لبوں پر کسی طرح ہنسی لاتا رہے بھلے تو اپنے نظروں میں کیوں ناں مسخرہ ہی لگ رہا ہو، والدین سے حسن سلوک تیرے اور تیرے بھائیوں اور بہنوں کے درمیان "باری بندی" کا نام نہیں۔ یہ تو ایک دوڑ کا نام ہے جو جنت کے دروازوں کی طرف جاری ہے اور پتہ نہیں کون پہلے پہنچ جائے۔ اور یہ بھی یاد رکھو کہ جنت کو بہت سے راستے جاتے ہیں اور ان میں سے کئی راستے تیرے والدین سے ہو کر جاتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، لیکن ان تمام نعمتوں میں والدین ایک ایسی عظیم نعمت ہیں جن کا کوئی نعم البدل نہیں۔ والدین وہ ہستیاں ہیں جو اپنی اولاد کی پرورش، تعلیم و تربیت اور کامیابی کے لیے اپنی زندگی کی ہر خوشی قربان کر دیتے ہیں۔ ایک ماں اپنی اولاد کی خاطر راتوں کی نیند قربان کرتی ہے، تکلیفیں برداشت کرتی ہے اور ہر لمحہ اس کی سلامتی کے لیے دعا گو رہتی ہے۔ اسی طرح باپ اپنی محنت، پسینہ اور آرام قربان کرکے اپنے بچوں کے لیے روزی کماتا ہے اور انہیں ایک بہتر مستقبل فراہم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اسلام نے والدین کی عظمت کو اس قدر بلند مقام عطا کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے۔

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ "تم اپنے رب کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور والدین کے ساتھ نیکی کرو۔" اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ والدین کی خدمت اور ان کی عزت اسلام کے بنیادی احکام میں شامل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی متعدد احادیث میں والدین کی خدمت کی فضیلت بیان فرمائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے، جبکہ باپ کو جنت کا درمیانی دروازہ قرار دیا گیا ہے۔ ان تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ والدین کی رضا دراصل اللہ تعالیٰ کی رضا کا ذریعہ ہے۔

بدقسمتی سے آج کے دور میں مصروفیات، مادہ پرستی اور جدید طرزِ زندگی کی وجہ سے بہت سے لوگ والدین کے حقوق سے غافل ہوتے جا رہے ہیں۔ بعض نوجوان والدین کی بات سننا پسند نہیں کرتے، ان کے مشوروں کو نظر انداز کرتے ہیں یا ان سے سخت لہجے میں گفتگو کرتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے والدین کو "اف" تک کہنے سے منع فرمایا ہے۔ ان کے سامنے آواز بلند کرنا، ان کی دل آزاری کرنا یا انہیں بے عزت کرنا نہ صرف اخلاقی جرم ہے بلکہ دینی اعتبار سے بھی گناہ ہے۔

والدین کی خدمت صرف ان کے حکم پر کام کرنے کا نام نہیں بلکہ ان کی ضروریات کو محسوس کرنا بھی حسنِ سلوک کا حصہ ہے۔ بہترین اولاد وہ ہے جو والدین کے کہنے سے پہلے ان کی ضرورت کو سمجھ لے اور اسے پورا کرنے کی کوشش کرے۔ اگر والدین بیمار ہوں تو ان کی تیمارداری کرنا، ان کی دوائیں وقت پر دینا، انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جانا، ان کے آرام کا خیال رکھنا اور ان کے ساتھ محبت سے پیش آنا حقیقی خدمت ہے۔ اسی طرح اگر وہ بوڑھے ہو جائیں تو ان کے مزاج، کمزوری اور جذبات کو سمجھنا اور ان کی عزت و احترام میں کوئی کمی نہ آنے دینا ہر اولاد کی ذمہ داری ہے۔

والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا ایک اہم پہلو ان کے ساتھ وقت گزارنا بھی ہے۔ آج بہت سے لوگ اپنے دوستوں، موبائل فون، کاروبار یا ملازمت میں اس قدر مصروف ہو جاتے ہیں کہ والدین سے چند لمحے بات کرنے کا وقت بھی نہیں نکالتے۔ حالانکہ بڑھاپے میں والدین کو سب سے زیادہ اپنی اولاد کی توجہ، محبت اور ساتھ کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان کے ساتھ بیٹھنا، ان کی باتیں سننا، ان سے مشورہ کرنا اور ان کے چہرے پر مسکراہٹ لانا بھی عبادت ہے۔

مالی تعاون بھی والدین کے حقوق میں شامل ہے۔ اگر والدین کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو خوش دلی سے ان پر خرچ کرنا چاہیے، چاہے وہ خود مالی طور پر مستحکم ہی کیوں نہ ہوں۔ ان کے لیے اچھے کپڑے، معیاری علاج، بہتر رہائش اور آرام دہ سفری سہولیات کا انتظام کرنا اولاد کی سعادت مندی کی علامت ہے۔ اسی طرح کبھی انہیں پسندیدہ کھانے کے لیے باہر لے جانا، سیر و تفریح کا موقع فراہم کرنا یا ان کے ساتھ خوشگوار وقت گزارنا ان کے دل کو خوشی دیتا ہے۔

والدین کی اطاعت کا مطلب یہ نہیں کہ صرف ان کی موجودگی میں ان کا احترام کیا جائے، بلکہ ان کی غیر موجودگی میں بھی ان کے وقار کا خیال رکھا جائے۔ ان کے بارے میں کبھی بری بات نہ کی جائے، ان کے فیصلوں کا مذاق نہ اڑایا جائے اور ان کی عزت کو ہر حال میں مقدم رکھا جائے۔ اگر والدین کسی معاملے میں غلطی بھی کر جائیں تو ادب اور نرمی کے ساتھ اپنی بات پیش کرنی چاہیے، نہ کہ غصے یا بدتمیزی سے۔

والدین کے انتقال کے بعد بھی ان کے حقوق ختم نہیں ہوتے۔ ان کے لیے دعا کرنا، ان کے ایصالِ ثواب کا اہتمام کرنا، ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کرنا اور ان کے ادھورے نیک کاموں کو مکمل کرنا بھی والدین سے وفاداری کی علامت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مرنے کے بعد بھی اولاد کی دعا والدین کے درجات بلند کرنے کا سبب بنتی ہے۔

آج معاشرے میں ایسے خوش نصیب لوگ بھی موجود ہیں جو والدین کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیتے ہیں۔ وہ نہ صرف ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں بلکہ ان کے چہروں پر خوشی دیکھ کر خود بھی خوش ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی زندگی میں اللہ تعالیٰ برکت عطا فرماتا ہے، ان کے رزق میں اضافہ کرتا ہے، ان کے معاملات آسان فرماتا ہے اور انہیں دنیا و آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ والدین کی دعائیں ایسی دولت ہیں جو انسان کی تقدیر بدل سکتی ہیں۔

ہر انسان کو چاہیے کہ وہ روزانہ اپنے آپ سے یہ سوال کرے کہ کیا وہ اپنے والدین کے ساتھ وہی سلوک کر رہا ہے جس کے وہ حق دار ہیں؟ کیا وہ ان کی خدمت صرف فرض سمجھ کر کرتا ہے یا محبت اور اخلاص کے ساتھ؟ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد بھی مستقبل میں ہمارے ساتھ اچھا برتاؤ کرے تو ہمیں آج اپنے والدین کے ساتھ بہترین اخلاق کا مظاہرہ کرنا ہوگا، کیونکہ جیسا ہم کریں گے ویسا ہی ہمیں واپس ملے گا۔

یاد رکھئے !والدین اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت اور جنت تک پہنچنے کا آسان راستہ ہیں۔ ان کی خدمت، عزت، اطاعت اور محبت نہ صرف ہماری دینی ذمہ داری ہے بلکہ ہماری اخلاقی کامیابی بھی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں والدین کی قدر کریں، ان کے جذبات کا احترام کریں، ان کی دعائیں حاصل کریں اور ہر ممکن طریقے سے ان کی خوشی کا سامان کریں۔ یہی حقیقی حسنِ سلوک ہے، یہی کامیاب زندگی کی علامت ہے اور یہی دنیا و آخرت کی بھلائی کا راستہ ہے۔

کالم نگار : نوید مسعود ہاشمی
| | |
47