جن حضرات نے کل لوہی دریجی میں سال کی جماعتوں کے جوڑ میں شرکت کی سعادت حاصل کی۔ انہوں نے ضرور اس حضرت کی زیارت کی ہوگی۔ اتفاق سے کل جب میں ساکران کے احباب کے ساتھ ان کی بولان گاڑی میں واپس ہوا۔ تو یہ حضرت ہمیں دریجی سے نیچے مصری ہوٹل پر پیدل جاتے ہوئے ملے۔ ساتھیوں نے انہیں پہچان لیا۔ اور گاڑی روک کر انہیں بٹھا لیا۔ تب ان کے ساتھ حال احوال کرنے کا موقع ملا۔ یہ حضرت آچار ہوٹل حب کے رہائشی ہیں۔ اور تبلیغ ان کا جنون ہے۔ جہاں پر بھی کوئی جوڑ ہو یا اجتماع ہو۔ یہ اپنا بستر کندھے پر ڈال کر، اللہ کا نام لے کر سڑک پر رواں دواں ہو جاتے ہیں۔ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں ہوتی۔ کہ اس کے جیب میں کچھ ہے یا نہیں۔ بس اللہ کا نام لے کر نکل جاتے ہیں۔ اور باقی کام اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ کہ کس طرح انہیں وہاں تک پہنچاتے ہیں۔ بتا رہے تھے کہ گھر والوں کا بھی ایسا ہی ذہن بنا ہوا ہے کہ کچھ مل گیا۔ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کر لیا۔ نہ ملا تو بھی صبر کر لیا۔ بس اللہ اللہ خیر صلا
بتا رہے تھے کہ کوئی جاب نہ مل سکا۔ بیٹا بھی کوئی نہیں۔ صرف ایک بیٹی ہے۔ وہ قرآن پاک حفظ کر رہی ہے۔ اور ان کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش یہ ہے کہ اس کی بیٹی عالمہ بن کر دین مبین کی خدمت میں لگ جائے۔
میں نے ان کی دعوت کے کام پر اس قدر لگاؤ پر سوال اٹھایا۔ تو بتانے لگے کہ میں کینسر کے مرض میں مبتلا ہوگیا تھا۔ اور میں سمجھ ریا تھاکہ اب میری زندگی زیادہ دیر نہیں چلنے والی۔۔۔ ایسے میں ، میں نے اللہ کے راستے میں مرنے کو بہتر سمجھا۔ اور چار مہینے کے لئے نکل گیا۔اور وہی چار مہینے میرے لئے میری موذی مرض سےشفا کا سبب بن گئے۔تب سے میں نے بس تبلیغ کو اپنا اوڑنا بچھونا بنا لیا۔ اور اب یہی میری زندگی ہے۔
دوران گفتگو معلوم ہوا کہ وہ صرف مسلمانوں کی دین سے دوری پر غمزدہ ہی نہیں ہیں۔ بلکہ تمام انسانیت کی ہدایت اور فلاح کے لیے فکر مند ہیں۔ اور درد دل سے انسانوں کی دونوں جہانوں میں کامیابی کے لئے مقدور بھر کاوشوں میں لگے ہوئے ہیں۔
دوستوں کو برسات ہوٹل پر خدا حافظ کہنے کے بعد ہم دونوں مزید سفر کے لیے دو بارہ سڑک پر آ گئے۔ تھوڑی دور چلے تھے۔ کہ ان کے ایک جاننے والے موٹر سائیکل پر پہنچے۔ انہوں نے اسے روکا اور اصرار کرکے مجھے اس کے ساتھ بٹھا دیا۔ اور میں اس مرد درویش کو اپنے حال میں چھوڑ کر اپنے سفر پر روانہ ہوگیا۔
اس بحث سے قطع نظر ان کا یہ طرز عمل درست ہے یا غلط۔۔۔۔ لیکن آج کل کے اس دور میں جبکہ ہر طرف دین سے دوری بلکہ بیزاری نظر آتی ہے۔ ایسے لوگوں کی دین اور دین داروں سے والہانہ محبت ناقابل یقین ہے۔ اور ہمارے لئے ایک سبق ہے کہ کامیابی صرف اللہ کی رضا میں ہے۔ اس کے سوا زندگی کا مقصد کچھ بھی باقی نہیں رہتا۔