جاوید ہاشمی صاحب نے قائد اعظم کو زیارت لے جانے کے بارے میں حسب روایت ایک درفنطنی تو چھوڑ دی کہ اسٹیبلشمنٹ قائد اعظم کو فزیکلی اٹھا کر زیارت لے گئی جہاں کوئی ڈاکٹر بھی نہیں تھا وغیرہ وغیرہ ۔ اب انہیں چاہیے وہ چند سوالات کا جواب بھی دے دیں۔
پہلا سوال یہ ہے کہ کون سی اسٹیبلشمنٹ قائد اعظم کو جبرا زیارت لے گئی تھی جہاں علاج معاملجے کی سہولت ہی نہ تھی اور انہیں پاکستان کا پہلا مسنگ پرسن کر دیا؟
جس وقت قائد اعظم کو شدید بیماری کی حالت میں زیارت لے جایا گیا ،ا س وقت پاکستان کا آرمی چیف جنرل گریسی تھا۔ کوئی ایک مسلمان اور مقامی پاکستانی بھی ایسا نہ تھا جو فوج میں فور سٹار جرنیل ہوتا۔ کوئی ایک مقامی مسلمان ایسا نہیں تھا جو لیفٹیننٹ جنرل ہوتا۔ صرف تین میجر جنرل مسلمان تھے ۔ کمانڈر ان چیف برطانوی ، چیف آف جنرل سٹاف برطانوی ، ڈویژن اور برگیڈ کمانڈ پر بھی برطانوی ، آرٹلری ، انجینیرز ، سگلز اور لاجسٹک کی کمانڈ پر بھی برطانوی۔ مسلمان افسران تو گنتی کے تھے کیونکہ ملک نیا بنا تھا اور اس سے پہلے مسلمانوں کوبلعموم اعلی عہدے دیے ہی نہیں جاتے تھے ۔ تو پھر قائد اعظم کے خلاف اگر سازش ہوئی تو ہاشمی صاحب بتائیں یہ سازش کس نے کی؟
کیا یہ سازش برطانوی اسٹیبلشمنٹ نے کی؟ سوال یہ ہے کہ وہ کیوں کرتی؟ قائد اعظم گورنر جنرل تھے ، اور چونکہ ابھی پاکستان کا اپنا آئین تیار نہیں ہوا تھا اور انڈین انڈی پنڈنس ایکٹ کے تحت ایکٹ آف انڈیا 1935 کو ہی عارضی طور پر عبوری آئین بنا لیا گیا تھا تو گورنر جنرل کا منصب برطانوی بادشاہ کی نمائندگی بھی کر رہا تھا۔ پاکستان آرمی کو ان دنوں رائل پاکستان آرمی کہا جاتا تھا کیونکہ ابھی پاکستان کا آئین نہیں بنا تھا اور پرانے آئین کے تحت ہی معاملات چل رہے تھے تو کیا جاوید ہاشمی صاحب یہ کہہ رہے ہیں کہ برطانوی فوجی افسران نے گورنر جنرل کو زیارت میں قید کر دیا ۔ یعنی اپنے ہی کراؤن سے بغاوت کر دی اور اپنے ہی پارلیمان کے بنائے بندو بست پر یلغار کر دی؟
اور اگر برطانوی افسران اس سازش میں نہیں شامل تھے اور ہاشمی صاحب کا یہ کہنا ہے کہ کچھ مقامی افسران نے یہ سب کیا تو وہ افسران کون تھےا ور انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ اس وقت تو کوئی ایک مسلمان افسر ایسا نہ تھا جو کسی اہم عہدے پر ہوتا اورا سے اقتدار کی خواہش ہوتی ا ور اس میں اندھا ہو کر قائد کے خلاف اقدم اٹھاتا۔ یہ تو قائد کے انتقال کے کافی بعد کی بات ہے کہ برطانوی افسران واپس چلے گئے اور پہلا مقامی اور مسلمان افسر ایوب خان کمانڈر انچیف بنے جنہیں بعد میں ایک بنگالی وزیر اعظم نے کابینہ میں شامل کر کے اقتدار کی راہ دکھائی ۔ سوال یہ ہے کہ اس وقت کون تھا جس نے قائد کو جبری طور پر زیارت بھیجا؟ کیا نچلی سطح کے افسران کے لیے ایسا فیصلہ کرنا ممکن بھی تھا؟
جاوید ہاشمی صاحب نےا س سے پہلے مشرقی پاکستان کے حواالے سے بھی ایسے ہی غلط بیانی کی تھی۔ اس پر انہیں ان ہی کالموں میں متوجہ کیا تو انہوں نے جوابا ایک شذرہ لکھ دیا اور اس میں مزید غلط بیانی کی۔ اس پر ان کی غلطیوں کی نشان دہی کرتے ہوئے میں نے حقائق سامنے رکھے تو اس کے بعد سے ان کی جانب سے خاموشی ہے۔
اب وہ نئے محاذ پر داد شجاعت دینے آئے ہیں اور ایک بار پھر غلط بیانی کر رہے ہیں۔ وہ ایک نیک نام سیاست دان ہیں اور ان کی عزت میرے دل میں بھی ہے، یہی احترام روک رہا ہے ورنہ میں یہ بھی لکھ دیتا کہ ہاشمی صاحب جھوٹ بول رہے ہیں.ان سے درخواست ہے کہ تاریخ کو یوں مسخ نہ کریں ۔ آپ سینیئر سیاست دان ہیں ، شام کا اخبار نہ بنیں۔