ہم سمجھے تھے کہ خطرہ صرف موبائل کی سکرین تک ہے… ہم اپنے بچوں کو ٹک ٹاک، خراب ویڈیوز اور سوشل میڈیا کے اثرات سے بچانے کی جنگ لڑ رہے تھے، لیکن فتنہ اتنا چالاک ہے کہ اس نے ہمارے گھروں میں "کھلونوں" کے روپ میں قدم رکھ دیا ہے۔
کھلونوں کی دنیا میں ایک زہریلا قدم: "پریگننٹ باربی" کا نیا روپ!
باربی ڈول، جسے کل تک محض ایک کھلونا سمجھا جاتا تھا،قابل اعتراض کچھ حد تک پہلے بھی تھا ۔ بچہ کھیلتے ہوئے بے لباس کر دے تو بہت معیوب لگتا ہے کھلونے سے جڑے تمام لگزری ائٹم اس کا میل ورژن اس کو ایک عام کھلونا نہیں رہنے دیتے اس کھلونے کو ایک مخصوص تھیم اور بہت بڑے بزنس مائنڈ سیٹ اپ کے ساتھ بنایا گیا ہے یہ معمولی کھلونا نہیں ہے اب اسے ایک نہایت خطرناک اور نئے انداز میں متعارف کروایا گیا ہے۔ مارکیٹ میں باقاعدہ "پریگننٹ باربی" (Pregnant Barbie) اتاری گئی ہے!
اس کھلونے کی ساخت ایسی بنائی گئی ہے کہ باربی کا پیٹ کھولا جا سکتا ہے، جس کے اندر ماں کے پیٹ میں بچے کی پرورش کا پورا عمل اور ایک مکمل بچہ دکھایا گیا ہے۔ جس طرح ایک عورت کی حمل (Pregnancy) کا پورا طریقہ کار ہوتا ہے، وہی سب کچھ اس گڑیا کے ذریعے بچیوں کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے!
اب ذرا ٹھنڈے دل سے سوچیں!
جس عمر میں معصوم بچیاں ان کھلونوں سے کھیلتی ہیں، کیا ان کا ذہن اس قابل ہے کہ وہ ان پیچیدہ، بالغ اور حساس چیزوں کو سمجھ سکیں؟ آخر ان ننھی بچیوں کے ذہنوں کو اتنی تیزی سے بالغ (Adult) اور میچور کرنے کی اتنی جلدی کیوں ہے؟
یہ محض ایک کھلونا نہیں، ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے:
وقت سے پہلے ذہنوں کی تباہی: بچوں کے ذہنوں کو اس حد تک اوور لوڈ (Overloaded) کر دیا گیا ہے کہ ان کا معصوم بچپن، بے فکری اور فطری حیا وقت سے پہلے ختم کی جا رہی ہے۔بے حیائی کو نارمل بنانا: جن باتوں کی ایک خاص عمر اور وقت ہوتا ہے، انہیں کھلونوں کے ذریعے بچپن ہی سے سامنے لا کر بچوں کی حساسیت کو ختم کیا جا رہا ہے۔
خطرہ صرف موبائل نہیں ہے: ہم صرف اسکرینز سے ڈر رہے تھے، لیکن یہ فتنہ کھلونوں، کارٹونز اور روزمرہ کی چیزوں کے ذریعے براہِ راست ہمارے بچوں کے کمروں تک پہنچ چکا ہے۔"اس میں بچوں کا کوئی قصور نہیں ہے! قصور اس مواد کا ہے جو ہم ان کی زندگیوں میں بلا جھجھک داخل ہونے دے رہے ہیں۔ اگر ہم روز بھی کسی ایک چیز پر ویڈیو بنائیں یا بات کریں تو شاید دن کم پڑ جائیں گے، لیکن خطرات ختم نہیں ہوں گے۔"
بطورِ والدین ہمیں کیا کرنا ہوگا؟
ہر کھلونا خریدنے سے پہلے پرکھیں:
دیکھیں۔۔ صرف کھلونا خوبصورت ہونا کافی نہیں، یہ دیکھیں کہ وہ بچے کے ذہن پر کیا اثر ڈال رہا ہے۔ 'پریگننٹ باربی' جیسے کھلونوں کا مکمل بائیکاٹ کریں۔
بچوں کی حفاظت کریں:
اپنے بچوں کے ساتھ وقت گزاریں اور ان کی چیزوں پر نظر رکھیں تاکہ باہر کا فتنہ ان کے ذہنوں کو گندا نہ کر سکے۔
ان کا بچپن نہ چھینیں:
اپنے بچوں کو وقت سے پہلے بڑا نہ ہونے دیں۔ ان کی معصومیت ان کا سب سے بڑا زیور ہے۔
آئیے! اپنے بچوں کی صرف جسمانی نہیں، بلکہ ان کی ذہنی، اخلاقی اور ایمانی حفاظت کی ذمہ داری بھی خود لیں۔