(+92) 319 4080233
کالم نگار

اسحاق بلال

اسحاق بلال

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
ان سنتوں کی طرف دھیان کیوں نہیں؟
دوڑنا بھاگنا سلم سمارٹ رہنا بھی سنت ہے، رسول اللہﷺ کا پیٹ نکلا ہوا نہیں تھا. آپ کو بکرے کا گوشت پسند تھا لیکن آپ سادہ اور سستی ترین خوراک ہی کھاتے تھے. جؤ کی روٹی اور کدو شریف پر گزارہ کر لیتے تھے. زیتون اور انجیر سال میں ایک بار بھی نہیں ملتی تھی.

اس بارہ ربیع الاول پر رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی سیرت بیان کریں تو چاند سا چہرہ والیل زلفیں اور کالی کملی نہ بیان کریں.

یہ بتائیں کہ انہوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا اور پاکستانی روزانہ صبح شام جھوٹ بولتے ہیں. وہ رشوت نہیں لیتے تھے انصاف کرتے تھے ملاوٹ نہیں کرتے تھے.
رسول اللہ ﷺنے کبھی وعدہ خلافی نہیں کی۔ پاکستانی وعدہ کرنے کو مذاق سمجھتے ہیں، بات بات پر جھوٹی قسم اٹھا لیتے ہیں. وقت کی پابندی تو دور، زبان کی پابندی بھی ختم ہو چکی ہے. رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا لا دِينَ لِمَن لا عَهدَ لَهُ ، اس شخص کا کوئی دین نہیں جو اپنی بات پوری نہیں کرتا.

رسول اللہﷺ اگر کسی سے قرض لیتے تو وقت پر واپس کرتے اور حتیٰ کہ شکرانے کے طور پر زیادہ بہتر چیز لوٹاتے، اور پاکستان میں عاشقان رسول قرض لے کر بھاگ جاتے ہیں، قرض خواہ کو ذلیل کرتے ہیں. رسول اللہ فرماتے ہیں "جبرائیل مجھے مسلسل ہمسایوں کے حقوق کی تاکید کرتے رہے، حتیٰ کہ مجھے گمان ہوا کہ انہیں وراثت میں شریک کر دیں گے." پاکستانی پڑوسی کی زندگی اجیرن بناتے ہیں شور شرابہ، جھوٹی شکایتیں، حسد اور بے حسی..

صفائی نصف ایمان ہے، رسول اللہ ﷺ

صاف ستھرے رہتے تھے اور اپنے اردگرد ماحول کو بھی صاف رکھتے تھے. پاکستان میں گلیاں کوڑے کرکٹ سے بھری ہوئی ہیں، گھروں کے سامنے گند ڈال دیا جاتا ہے لیکن مسجد میں جائے نماز صاف کرنے کا دکھاوا کیا جاتا ہے.

رسول اللہﷺ کبھی گالی نہیں دیتے تھے. ان کا کلام نرم، شائستہ اور حکمت سے بھرپور ہوتا۔ پاکستانی چھوٹی بات پر گالی اور جھوٹے الزام سے بات شروع کرتے ہیں. آپ نے فرمایا: "طاقت ور وہ نہیں جو کُشتی میں دوسرے کو پچھاڑ دے بلکہ وہ ہے جو غصے کے وقت اپنے آپ پر قابو پائے" ہمارا حال یہ ہے کہ ہر دوسرے دن قتل و غارت، روڈ ریج اور چھوٹی بات پر خون خرابہ ہوتا ہے.

رسول اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم خود یتیم تھے اور ہمیشہ یتیموں کے ساتھ محبت اور مدد کا حکم دیا. پاکستان میں یتیموں کی زمین پر قبضہ، ان کا مال کھانا اور ان کے حصے دبانا عام بات ہے.

رسول اللہ ﷺنے عورتوں کے ساتھ حسن سلوک کو ایمان کی نشانی قرار دیا۔ لیکن ہمارے معاشرے میں عورت پر ظلم، تشدد اور حق تلفی عام ہے، حتیٰ کہ تعلیم و روزگار سے بھی محروم کیا جاتا ہے. عام مسلمانوں کی بات چھوڑیں میں آپ کو پاکستان کے سو بڑے علماء کرام اور پیروں کی فہرست دیتا ہوں مجھے بتائیں کس نے اپنی بہنوں بیٹیوں اور بیویوں کو وراثت میں حصہ دیا ہے. اور میں ایسی ہزاروں مثالیں پیش کر سکتا ہوں جس میں رسول اللہ کا عمل کچھ اور ہے پاکستانی بالکل الٹ عمل کرتے ہیں پھر بھی فخریہ عاشقان رسول ﷺ کہلاتے ہیں.

کالم نگار : اسحاق بلال
| | |
54