(+92) 319 4080233
کالم نگار

ضیاء چترالی

ضیاء چترالی

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
ہماری زی جنریشن کہاں ہے؟
بھارت میں نوجوانوں کی ایک منفرد اور طنزیہ مہم "کاکروچ جنتا پارٹی (CJP)" غیر معمولی مقبولیت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی۔ اس تحریک کا آغاز ابھی مئی کے مہینے میں اس وقت ہوا جب بھارتی چیف جسٹس نے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران بے روزگار نوجوانوں کو "کاکروچ" اور "معاشرے کا طفیلیہ" قرار دیا۔ یہ جملہ نوجوانوں کے لیے توہین آمیز محسوس ہوا، جس کے ردعمل میں سیاسی ابلاغی ماہر ابھیجیت دیپکے نے "کاکروچ جنتا پارٹی" کے نام سے ایک آن لائن تحریک شروع کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ تحریک سوشل میڈیا پر طوفان بن گئی۔ چند ہی دنوں میں لاکھوں افراد اس سے وابستہ ہوگئے، انسٹاگرام پر اس کے کروڑوں فالوورز بن گئے اور رضاکار علامتی طور پر کاکروچ کے لباس پہن کر احتجاج اور صفائی مہمات میں شریک ہونے لگے۔ یہ تحریک صرف ایک طنزیہ ردعمل نہیں رہی بلکہ بے روزگاری، امتحانی نظام کی خامیوں، نوجوانوں کے معاشی مسائل اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف ایک مؤثر آواز بن گئی۔

اب دہلی میں ہونے والے اس کا احتجاج بھی رنگ لے آیا۔ مطالبات مان لیے گئے اور وزیر تعلیم کو مستعفی ہونا پڑا۔ تحریک اب بھی جاری۔

یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ 2024ء میں بنگلہ دیش کے نوجوانوں نے ایسی تحریک برپا کی جس نے برسوں سے اقتدار پر قابض چڑیل حسینہ کی حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ 2022ء میں سری لنکا کی "ارگالایا" تحریک نے صدر گوتابایا راجاپکسا کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا، جبکہ حال ہی میں نیپال میں بھی نوجوانوں کی منظم جدوجہد نے سیاسی تبدیلی کی راہ ہموار کی۔

پاکستان میں ایسا کیوں دکھائی نہیں دیتا؟
کیا ہمارے نوجوان دوسروں سے کم ذہین ہیں؟ کیا ان میں جذبے کی کمی ہے؟ کیا وہ جدید دنیا سے کٹے ہوئے ہیں؟ہرگز ایسا نہیں ہے۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں نوجوانوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ہمارے نوجوان سوشل میڈیا پر بے پناہ اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔کسی بھی سیاسی یا سماجی موضوع کو چند گھنٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ جس کا بار مشاہدہ کیا جا چکا ہے۔ فیس بک، ایکس، انسٹاگرام، ٹک ٹاک اور یوٹیوب پر ہمارے نوجوانوں کی سرگرمیاں کسی بھی ملک کے نوجوانوں سے کم نہیں۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ یہی طاقت حقیقی اجتماعی تبدیلی میں بہت کم دکھائی دیتی ہے۔

اس کی کیا وجہ ہے؟
بدقسمتی سے کوئی ایک وجہ نہیں، یہاں کئی ٹھوس وجوہات ہیں۔

1.پہلی وجہ ہمارا شدید تقسیم شدہ معاشرہ ہے۔ مذہب، فرقہ، مسلک، زبان، قومیت، قبیلہ، صوبہ، سیاسی جماعت اور شخصیات کی بنیاد پر ہم اس قدر بٹ چکے ہیں کہ نوجوان کی سب سے بڑی شناخت پاکستانی ہونے کے بجائے کسی نہ کسی گروہ سے وابستگی بن جاتی ہے۔ جب ہر شخص دوسرے کو اپنا مخالف سمجھنے لگے تو پھر کسی مشترکہ قومی مقصد پر اکٹھا ہونا آسان نہیں رہتا۔

2.دوسری وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں عوامی جدوجہد سے زیادہ "نجات دہندہ" کا تصور مضبوط ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ کوئی غیر معمولی شخصیت آئے گی، سب کچھ بدل دے گی اور ہمیں صرف انتظار کرنا ہے۔ اس سوچ نے نوجوان کو خود تبدیلی کا کردار بننے کے بجائے تماشائی بنا دیا ہے۔

3.تیسری وجہ ہمارا سماجی ڈھانچہ ہے۔ جاگیردارانہ اور قبائلی روایات آج بھی معاشرے پر گہرے اثرات رکھتی ہیں۔ طاقتور طبقہ موجودہ نظام سے فائدہ اٹھاتا ہے، اس لیے تبدیلی نہیں چاہتا، جبکہ کمزور طبقہ نظام بدلنے کے بجائے اسی نظام میں اپنے لیے جگہ بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اجتماعی مفاد کے بجائے ذاتی مفاد غالب آ جاتا ہے۔ نچلے طبقے کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ کسی بھی طریقے سے بالائی طبقے کا حصہ بن جائے۔ پھر حالات کیسے بھی ہوں، وہ مطمئن رہتا ہے۔

4.چوتھی وجہ ہمارا تعلیمی نظام ہے۔ یہاں تعلیم کا مقصد عموماً امتحان پاس کرنا اور ملازمت حاصل کرنا رہ گیا ہے۔ تنقیدی سوچ، شہری شعور، مکالمے کی روایت اور اجتماعی ذمہ داری جیسے اوصاف نصاب اور تعلیمی ماحول میں بہت کم دکھائی دیتے ہیں۔ نتیجتاً نوجوان تعلیم یافتہ بلکہ ڈگری یافتہ تو ہو جاتا ہے، مگر سماجی اعتبار سے فعال شہری نہیں بن پاتا۔

5.ایک وجہ معاشی عدم تحفظ ہے۔ بے روزگاری، مہنگائی اور محدود مواقع نے نوجوان کی تمام توجہ اپنے مستقبل کو بچانے پر مرکوز کر دی ہے۔ جسے روزگار کا خوف ہو، وہ طویل احتجاج یا منظم جدوجہد کا خطرہ کم ہی مول لیتا ہے۔

6.یہاں قیادت کا فقدان ہے۔ نوجوانوں کو ایسی غیر جانب دار، دیانت دار اور قابل اعتماد قیادت میسر نہیں جو انہیں جماعتی یا نظریاتی تقسیم سے نکال کر قومی مفاد پر متحد کر سکے۔ اکثر تحریکیں آغاز ہی میں سیاسی وابستگیوں کی نذر ہو جاتی ہیں۔

7.ہم نے سوشل میڈیا کو ہی مزاحمت سمجھ لیا ہے۔ ٹرینڈ چلانا، پوسٹ شیئر کرنا، تبصرہ کرنا اور ویڈیو بنانا یقیناً اہم ہے، مگر جب تک یہ سرگرمی منظم زمینی عمل سے نہ جڑے، اس کے نتائج محدود رہتے ہیں۔ دنیا کی تقریباً تمام کامیاب نوجوان تحریکوں نے سوشل میڈیا کو صرف ایک ذریعہ بنایا، منزل نہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی نوجوان بے حس نہیں۔ سیلاب ہو، زلزلہ ہو، رمضان کی فلاحی مہمات ہوں یا خون کے عطیات، یہی نوجوان سب سے آگے دکھائی دیتے ہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مسئلہ جذبے کا نہیں، بلکہ سمت، تنظیم اور مشترکہ مقصد کا ہے۔

8.ایک اہم وجہ "تبدیلی" کے بیانیے کا بھیانک انجام بھی ہے۔ عمران خان نے پہلی مرتبہ لاکھوں نوجوانوں کو سیاست میں فعال کیا اور انہیں یقین دلایا کہ ووٹ کے ذریعے نظام بدلا جا سکتا ہے۔ نیا پاکستان بنایا جاسکتا ہے۔ مگر بعد یہ سب سراب ثابت ہوا تو نوجوانوں کے ایک بڑے طبقے کو سیاسی طور پر مایوس اور بددل کیا، جس کے اثرات آج بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

دنیا کی حالیہ نوجوان تحریکوں میں ایک بات مشترک دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے اپنے تمام اختلافات کو وقتی طور پر ایک طرف رکھ کر ایک واضح اور مشترکہ مطالبے پر اتفاق کیا۔ کہیں بے روزگاری مسئلہ بنی، کہیں امتحانی نظام، کہیں معاشی بحران اور کہیں حکومتی بدانتظامی۔ مشترکہ مسئلے نے نوجوانوں کو متحد کر دیا۔

پاکستان میں بھی تبدیلی اسی دن ممکن ہوگی جب نوجوان اپنی جماعتی، لسانی، فرقہ وارانہ اور قبائلی شناختوں سے بلند ہو کر قومی مفاد کو اپنی پہلی شناخت بنائیں گے۔ جس دن انہیں یہ احساس ہو گیا کہ مہنگائی، بے روزگاری، ناانصافی، ناقص تعلیم اور استحصالی نظام کسی ایک طبقے کا نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے، اسی دن خاموشی ٹوٹنے لگے گی۔

سوال یہ نہیں کہ ہماری زیڈ جنریشن میں صلاحیت ہے یا نہیں، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہ اپنی بے پناہ ڈیجیٹل طاقت کو کبھی حقیقی سماجی اور قومی تبدیلی میں تبدیل کر پائے گی؟ یا اس کے لیے ہمیں جین الفا اور پھر یا بیٹا کا انتظار کرنا پڑے گا؟

کالم نگار : ضیاء چترالی
| | |
71     1