(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی سفیان بلند

مفتی سفیان بلند

پروفائل | تمام کالمز
2026/08/15
موضوعات
فاسق، منافق اور غیر مسلم کے ساتھ بھی حسنِ اخلاق
محاسنِ اسلام میں سے یہ بھی ہے کہ وہ انسان کو صرف اپنے دوستوں سے اچھا برتاؤ کرنے کی تعلیم نہیں دیتا، بلکہ دشمنوں، مخالفین، فاسقوں، منافقوں اور غیر مسلموں کے ساتھ بھی عدل، وقار، احترام اور حسنِ اخلاق کا برتاؤ سکھاتا ہے، یہی وہ امتیاز ہے جس نے دین اسلام کو دیگر مذاہب و تہذیبوں پر فوقیت اور ترجیح دی ہے، سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی کسی کے باطل عقیدے کو قبول نہیں کیا، ظلم پر خاموشی اختیار نہیں کی، باطل سے مصالحت نہیں کی؛ لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ کی گفتگو شائستہ، رویہ باوقار اور انداز نہایت حکیمانہ رہا۔

آج کا ایک بڑا المیہ یہ ہے کہ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ جب کسی شخص میں بدعت، فسق، ظلم یا کفر پایا جائے تو اس کے ساتھ ہر قسم کی بدتمیزی، تحقیر اور گالی جائز ہوجاتی ہے، حالانکہ سیرتِ طیبہ اس تصور کی تردید کرتی ہے، اسلام نے افکار باطلہ اور خیالات فاسدہ سے نفرت کرنا سکھایا ہے لیکن اہل باطل اور مخالفین کے ساتھ بھی اخلاق کو چھوڑنا نہیں سکھایا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ اعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى (المائدۃ)

"کسی قوم کی دشمنی تمہیں اس بات پر آمادہ نہ کرے کہ انصاف چھوڑ دو، انصاف کرو، یہی تقویٰ سے زیادہ قریب ہے۔"

ایک اور مقام پر فرمایا:ادْعُ إِلَىٰ سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ وَجَادِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ (النحل: 125)

"اپنے رب کے راستے کی طرف حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ بلاؤ، اور ان سے ایسے طریقے سے گفتگو کرو جو سب سے بہتر ہو۔"

دعوت کا میدان ہو یا اختلاف کا ماحول، قرآن کا اصول یہی ہے: "بالتي هي أحسن"۔

*① رئیس المنافقین عبداللہ بن اُبی کے ساتھ نبوی اخلاق:
عبداللہ بن اُبی بن سلول مدینہ کے منافقین کا سردار تھا، اس نے غزوہ اُحد میں مسلمانوں کو نقصان پہنچایا، واقعہ افک میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانے والوں کی سرپرستی کی، اور ہر موقع پر مسلمانوں کے خلاف سازشیں کیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ عرض کیا کہ "یارسول اللہ! مجھے اجازت دیجیئے کہ اس منافق کی گردن اڑا دوں۔"لیکن رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:لَا يَتَحَدَّثُ النَّاسُ أَنَّ مُحَمَّدًا يَقْتُلُ أَصْحَابَهُ. "لوگ یہ بات نہ کہیں کہ محمد (ﷺ) اپنے ساتھیوں کو قتل کرتے ہیں۔" (البخاری: 4905)

جب عبداللہ بن اُبی مر گیا تو ان کا بیٹا، جو صحابی رسول تھا، رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنے والد کے کفن کے لئے آپ ﷺ کی قمیص مانگی :يَارَسُولَ اللهِ! أَعْطِنِي قَمِيصَكَ أُكَفِّنْهُ فِيهِ وَصَلِّ عَلَيْهِ وَاسْتَغْفِرْ لَهُ، ‏‏‏‏‏‏ آپ ﷺ نے اپنی قمیص عطا فرمائی، بلکہ اس کے جنازے کے لئے بھی تشریف لے گئے، جب آپ ﷺ نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھے تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے آپ ﷺ کو پیچھے سے پکڑ لیا اور عرض کیا :أَلَيْسَ اللهُ نَهَاكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى الْمُنَافِقِينَ

کہ اللہ تعالی نے آپ کو منافقین پر نماز پڑھنے سے منع نہیں فرمایا ؟

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا :أَنَا بَيْنَ خِيَرَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ الله تعالى:‏‏‏‏ اسْتَغْفِرْ لَهُمْ أَوْ لا تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ إِنْ تَسْتَغْفِرْ لَهُمْ سَبْعِينَ مَرَّةً فَلَنْ يَغْفِرَ اللهُ لَهُمْ (التوبة 80،‏‏) فَصَلَّى عَلَيْهِ،‏‏‏‏ فَنَزَلَتْ:‏‏‏‏ وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَدًا۔

مجھے اختیار دیا گیا ہے جیسا کہ ارشاد باری ہے کہ "آپ ان کے لئے استغفار کریں یا نہ کریں، اور اگر آپ ستر مرتبہ بھی استغفار کریں تو بھی اللہ انہیں ہرگز معاف نہیں کرے گا" چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی، اس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی کہ اب کسی بھی منافق کی موت پر اس کی نماز جنازہ کبھی نہ پڑھائی جائے۔(البخاری: 1269)

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ نفاق سے نفرت اپنی جگہ لیکن معاملات میں وقار، حکمت اور مصلحت کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے۔

*② یہودی ہمسایہ اور حسنِ عیادت:
ایک یہودی لڑکا رسول اللہ ﷺ کی خدمت کیا کرتا تھا، جب وہ بیمار ہوا تو آپ ﷺ خود اس کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے، حضرت أَنَس رضي الله عنہ روایت نقل کرتے ہیں کہ :كَانَ غُلَامٌ يَهُودِيٌّ يَخْدُمُ النَّبِيَّ ﷺ فَمَرِضَ، فَأَتَاهُ النَّبِيُّ ﷺ يَعُودُهُ...آپ ﷺ نے اسے اسلام کی دعوت دی، اس نے اپنے والد کی طرف دیکھا، والد نے کہا: "ابوالقاسم ﷺ کی بات مان لو۔" چنانچہ وہ مسلمان ہوگیا۔ آپ ﷺ واپس تشریف لاتے ہوئے فرما رہے تھے:الْحَمْدُ لِلهِ الَّذِي أَنْقَذَهُ مِنَ النَّارِ.

"تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اسے آگ سے بچا لیا۔"(البخاری : 1356)

غور کیجیئے! ایک غیر مسلم بچے کی عیادت کرنا، اس کی خیرخواہی کرنا اور اس کی ہدایت پر خوش ہونا، یہ ہے نبوی اخلاق۔

*③ بدتمیز شخص کے ساتھ بھی خوش اخلاقی:
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے ملاقات کی اجازت مانگی، آپ ﷺ نے پہلے فرمایا:بِئْسَ أَخُو الْعَشِيرَةِ.

"یہ اپنے خاندان کا برا آدمی ہے۔"

لیکن جب وہ اندر آیا تو آپ ﷺ نے نہایت خوش اخلاقی سے گفتگو فرمائی۔حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے تعجب کا اظہار کیا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:إِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْ تَرَكَهُ النَّاسُ اتِّقَاءَ فُحْشِهِ.

"بدترین شخص وہ ہے جسے لوگ اس کی بدزبانی کے خوف سے چھوڑ دیں۔" (البخاری: 6054)

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی کی برائی معلوم ہونے کے باوجود حسنِ معاشرت کو ترک نہیں کیا جاتا۔

باطل کی تائید نہ کریں مگر اخلاق بھی ترک نہ کریں:
یہ سمجھنا نہایت ضروری ہے کہ حسنِ اخلاق کا مطلب یہ نہیں کہ ہر عقیدہ صحیح مان لیا جائے یا ہر عمل کو درست قرار دیا جائے، رسول اللہ ﷺ نے ابوجہل کو کبھی حق پر نہیں قرار دیا، ابو لہب کی گمراہی پر خاموشی اختیار نہیں فرمائی، منافقین کی منافقت کی بھی نشان دہی فرمائی؛ مگر ان سب کے باوجود زبان کے وقار اور اخلاق کی حدود کو کبھی نہیں توڑا۔

علماء فرماتے ہیں کہ یہ دین، دین عدل بھی ہے اور دین رحمت بھی ہے، عدل انسان کو حق گوئی سکھاتا ہے اور رحمت انسان کو با اخلاق بناتا ہے، گویا ایمان والا عدل و رحمت کا جامع ہوتا ہے۔

عصرِ حاضر کے لئے اہم سبق:
آج اختلافِ مسلک، اختلافِ جماعت یا اختلافِ سیاست کی بنیاد پر ایک دوسرے کی تذلیل معمول بنتی جارہی ہے، بعض اوقات ایک شخص کی ایک غلطی اس کی پوری شخصیت کو مٹانے کا ذریعہ بنادی جاتی ہے، یہ نبوی طرزِ عمل نہیں۔اگر کسی کا عقیدہ غلط ہے تو علمی انداز میں اس کی اصلاح کیجیئے، اگر کوئی گناہ گار ہے تو خیرخواہی کے ساتھ نصیحت کیجیئے، اگر کوئی غیر مسلم ہے تو حکمت اور حسنِ اخلاق کے ساتھ دعوت دیجیئے لیکن گالی، تحقیر، تمسخر اور کردار کشی سے نہ کبھی کوئی ہدایت پاتا ہے اور نہ حق کی عظمت بڑھتی ہے۔سیرتِ نبوی ﷺ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ حق پر ثابت قدم رہنا اور حسنِ اخلاق کو برقرار رکھنا، یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد نہیں ہیں بلکہ ایک دوسرے کا کمال ہیں۔

آج اگر ہم اپنے اختلافات کو سیرتِ نبوی ﷺ کے آئینے میں دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ حق کی سب سے بڑی طاقت صرف مضبوط دلائل سے نہیں ہوتی بلکہ بلند اخلاق سے بھی ہوتی ہے، جب دلیل کے ساتھ کردار اور حق کے ساتھ حسنِ اخلاق جمع ہوجائیں، تبھی دعوت اثر پیدا کرتی ہے، دل بدلتے ہیں اور معاشرے سنورتے ہیں۔

کالم نگار : مفتی سفیان بلند
| | |
76     1
جامعه بنوریه عالمیه

جامعہ بنوریہ عالمیہ کے پلیٹ فارم سے شائع ہونے والے کالمز نیک نیتی ا، رواداری ، باہمی ہم اہنگی اور اسلامی معلومات کے تناظر میں ہوتے ہیں ، کسی فرد یا گروہ کی دل آزاری قطعا پیش نظر نہیں ہوتی ہے ، کالمز مقررہ کونسل سے نظر ثانی کے بعد قابل اشاعت ہوتے ہیں ، لیکن ایک تحریر کسی کالم نگار کے سوچ کا آئنہ ہوتی ہے جس سے ادارے یا کسی بھی فرد کو اختلاف رائے کا حق ہے ۔

مزید پڑہیں
سوشل میڈیا

فالو ، شیئر ، سبسکرائب، لائک

خط و کتابت

جامعہ بنوریہ عالمیہ سائٹ کراچی پاکستان ، پی او باکس نمبر 10698.

Visit Website
Google Map
Save Contact