(+92) 319 4080233
کالم نگار

ایاز حسین

ایاز حسین

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
طاغوت کیا ہے؟
طاغوت کا لغوی اور اصطلاحی مفہوم:
​لفظ "طاغوت" عربی زبان کے مادہ ط-غ-و سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی "حد سے تجاوز کرنا"، سرکش ہو جانا، یا نافرمانی کی ہر حد کو پار کر جانا ہے۔

​اصطلاحِ شریعت میں:
ہر وہ معبود، حاکم، قانون، یا طاقت جس کی عبادت، اطاعت، یا پیروی اللہ کی نافرمانی میں کی جائے اور جو بندوں کو اللہ کے دین سے برگشتہ کرے، اسے طاغوت کہتے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی اور بنیادی شکل شیطان ہے، اور ہر وہ شخص یا نظام جو اللہ کے احکام کے مقابلے میں اپنی حاکمیت یا قانون مسلط کرے، وہ بھی طاغوت کے زمرے میں آتا ہے۔

​قرآنِ کریم کی روشنی میں طاغوت کا تصور:
​قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے طاغوت کے انکار کو ایمان کا پہلا اور بنیادی شرط قرار دیا ہے۔ اللہ کی عبادت کے ساتھ طاغوت کا کفر کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔

​1. طاغوت کا انکار اور اللہ پر ایمان:
​"فَمَنْ يَكْفُرْ بِالطَّاغُوتِ وَيُؤْمِنْ بِاللَّهِ فَقَدِ اسْتَمْسَكَ بِالْعُرْوَةِ الْوُثْقَىٰ لَا انْفِصَامَ لَهَا" ​ترجمه: "پس جو شخص طاغوت کا انکار کرے اور اللہ پر ایمان لے آئے، تو اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا جس کے ٹوٹنے کا کوئی امکان نہیں۔"

​حوالہ: (سورۃ البقرۃ، سورۃ نمبر 2، آیت نمبر 256)

​2. تمام انبیاء کی دعوت: اللہ کی عبادت اور طاغوت سے اجتناب ​اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اپنے رسولوں کے ذریعے یہی پیغام دیا کہ صرف ایک اللہ کی عبادت کی جائے اور ہر طاغوت سے بچا جائے۔

​"وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَسُولًا أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ"

​ترجمه: "اور بلاشبہ ہم نے ہر امت میں ایک رسول بھیجا کہ (یہ پیغام دے کر) کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو۔"

​حوالہ: (سورۃ النحل، سورۃ نمبر 16، آیت نمبر 36)

​3. طاغوت کی پیروی کرنے والوں کا انجام:
​"اللَّهُ وَلِيُّ الَّذِينَ آمَنُوا يُخْرِجُهُمْ مِنَ الظَُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَوْلِيَاؤُهُمُ الطَّاغُوتُ يُخْرِجُونَهُمْ مِنَ النُّورِ إِلَى الظُّلُمَاتِ"

​ترجمه: "اللہ ان لوگوں کا کارساز ہے جو ایمان لائے ہیں، وہ انہیں اندھیروں سے نکال کر روشنی کی طرف لے جاتا ہے؛ اور جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے سرپرست طاغوت ہیں جو انہیں روشنی سے نکال کر اندھیروں کی طرف لے جاتے ہیں۔"

​حوالہ: (سورۃ البقرۃ، سورۃ نمبر 2، آیت نمبر 257)

​احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں طاغوت:
​احادیثِ نبویہ میں طاغوت کی حقیقت کو واضح کیا گیا ہے تاکہ مومن اسے بخوبی پہچان سکے اور اس کے فتنہ سے محفوظ رہ سکے۔

​1. طاغوت کی مختلف اقسام اور اس کا آغاز:
​حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب طاغوت کے بارے میں پوچھا گیا تو بتایا گیا:

​کاہن (جیسے جادوگر اور غیب کا دعویٰ کرنے والے): جن پر شیطان نازل ہوتا تھا۔

​شیطان خود: جو تمام برائیوں کی جڑ ہے۔

​حوالہ: (تفسیر ابن جریر الطبری، تحت الآیۃ 2:256؛ اور سنن الدارمی میں بھی اس مفہوم کی روایات موجود ہیں)

​2. ایمان کی اصل حقیقت اور طاغوت سے بیزاری

​رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

​"من قال لا إاله إلا الله وكفر بما يعبد من دون الله، حرم مالُه ودمُه، وحسابه على الله عز وجل"

​ترجمه: "جس نے کہہ دیا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ کے سوا جن جن کی بھی عبادت کی جاتی ہے ان سب کا انکار کر دیا، تو اس کا مال اور خون حرام ہو گیا (یعنی محفوظ ہو گیا) اور اس کا حساب اللہ عزوجل کے ذمے ہے۔"

​حوالہ: (صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب بيان تحريم دم الكافر بعد أن قال لا إله إلا الله، حدیث نمبر: 23)

​طاغوت کی اہم اقسام (جامع جائزہ):
​ابلیس اور شیاطین: تمام شیاطینِ جن و انس جو انسانوں کو اللہ کی نافرمانی پر اکساتے ہیں۔

​گمراہی کے سردار اور جھوٹے معبود: وہ ہستیاں جنہیں زبردستی یا رضامندی سے اللہ کے مقابل بٹھایا گیا۔

​باطل قوانین اور احکام: ہر وہ نظام یا قانون جو اللہ کی شریعت کے خلاف انسانوں پر مسلط کیا جائے۔

​جادوگر اور کاہن: جو غیب کا علم ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں یا لوگوں کو توہم پرستی میں مبتلا کرتے ہیں۔

​خلاصہ اور ایمانی تقاضا:
​طاغوت کا انکار محض زبانی کلامی دعویٰ نہیں ہے، بلکہ یہ دل کا ایک ایسا جذبہ اور پختہ عزم ہے جو انسان کو اللہ کے سوا ہر طاغوتی طاقت، باطل نظام اور فرعونِ وقت کے سامنے جھکنے سے انکار پر مجبور کرتا ہے۔ ایک سچا موم وہی ہے جو اپنی زندگی میں صرف اور صرف اللہ کی حاکمیتِ اعلیٰ کو تسلیم کرے اور طاغوت کے ہر نظام و فتنہ سے قطعی بَرأت (بیزاری) کا اعلان کرے۔

کالم نگار : ایاز حسین
| | |
52