بجلی اور گیس کا بل اب معاشی بم بن چکا ہے۔ غریب آخر کمانے جائے یا بجلی و گیس کا بل بھرے؟ گیس غائب، بجلی نایاب، مگر بل آسمان سے باتیں کر رہے ہیں۔ عوام کی جیبوں پر یہ ڈاکا آخر کب بند ہوگا؟ بنیادی ضروریاتِ زندگی عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں، اس بے حسی کا جواب کون دے گا؟ کیا غریب کا زندہ رہنا بھی جرم بن چکا ہے؟ ہر روز مہنگائی کی ایک نئی لہر عوام کو مزید مشکلات میں دھکیل رہی ہے۔ روزمرہ کا راشن، بجلی، گیس کے بل اور بچوں کی فیسیں... عام آدمی آخر کس کس چیز پر کلہاڑی چلائے؟
ٹیکسوں کا بوجھ صرف غریب پر ہے اور مراعات صرف اشرافیہ کے لیے۔ یہ کیسا انصاف ہے؟ حکمرانوں کی عیاشیاں عروج پر ہیں، جبکہ عوام ایک ایک روپیہ بچانے پر مجبور ہیں۔ پٹرول کی قیمت بڑھتے ہی ہر چیز کی قیمت آگ پکڑ لیتی ہے، مگر آمدن وہی کی وہی رہتی ہے۔ آخر کب تک؟ بجلی کے بلوں میں اتنے ٹیکس شامل کر دیے گئے ہیں کہ اصل قیمت کم اور ٹیکس زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ یہ ظلم بند کیا جائے۔
روٹی، کپڑا اور مکان تو دور کی بات، اب دو وقت کی دال روٹی بھی خواب بنتی جا رہی ہے۔ والدین اس کشمکش میں مبتلا ہیں کہ بچوں کے اسکول کی فیس ادا کریں یا گیس اور بجلی کے بل؟ ہسپتالوں میں ادویات مہنگی ہیں، علاج عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔ کیا غریب کے لیے سانس لینا بھی ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے؟ نوجوان روزگار کی تلاش میں دربدر ہیں اور حکمران صرف دعوؤں پر گزارا کر رہے ہیں۔
معاشی بدحالی نے ہنستے بستے گھروں کا سکون چھین لیا ہے۔ اس بحران کا ذمہ دار کون ہے؟ سفید پوش طبقہ خاموشی سے پس رہا ہے؛ نہ مانگ سکتا ہے اور نہ ہی عزتِ نفس کے ساتھ گزارا کر سکتا ہے۔ ٹیکس دہندگان کو آخر کیا مل رہا ہے؟ نہ معیاری سڑکیں، نہ صاف پانی، نہ مؤثر سیکیورٹی، صرف مہنگائی ہی مہنگائی۔
کیا ملک صرف اشرافیہ کو سہولیات دینے کے لیے چلایا جا رہا ہے؟ غریب کی آواز کب سنی جائے گی؟ آٹے کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ غریب کے منہ سے آخری نوالہ چھیننے کے مترادف ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں بے تحاشا اضافہ ہو چکا ہے؛ مریض علاج کروائے یا خاموشی سے موت کا انتظار کرے؟ پروٹوکول کا خرچ عوام کے ٹیکس سے پورا کیا جاتا ہے اور عوام کے حصے میں صرف مہنگائی کے جھٹکے آتے ہیں۔ وعدے آسمان سے باتیں کرتے تھے مگر عمل صفر رہا۔ حکمرانو! عوام کو بتاؤ کہ مہنگائی کا یہ طوفان کیوں برپا ہے؟ جب تک اشرافیہ کی مراعات ختم نہیں ہوں گی، مہنگائی کا جن قابو میں نہیں آئے گا۔ مہنگائی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور حکمران صرف اجلاسوں میں مصروف ہیں۔ معاشی پالیسیاں بناتے وقت عام آدمی کا خیال کیوں نہیں رکھا جاتا؟
بجلی کے بھاری بلوں نے چھوٹے کاروبار تباہ کر دیے ہیں۔ معیشت کا پہیہ آخر کیسے چلے گا؟ ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے پہلے سے موجود ٹیکس دہندگان کو مزید نچوڑا جا رہا ہے۔ کیا سبسڈی صرف بڑے سرمایہ داروں کے لیے ہے؟ عام عوام کے لیے کچھ کیوں نہیں؟ جب تک نااہلی ختم نہیں ہوگی، مہنگائی کا گراف نیچے نہیں آئے گا۔
عوام کا صبر اب جواب دے رہا ہے۔ مہنگائی پر قابو پاؤ یا اقتدار چھوڑ دو۔ پٹرول، بجلی، گیس، آٹا، دالیں، ہر چیز کی قیمت کو پر لگ چکے ہیں۔ عام آدمی آخر کہاں جائے؟ پانی کے ٹینکر بھی مہنگے، راشن بھی مہنگا؛ شہری آخر کس کس چیز کی قیمت ادا کرے؟ کم از کم اجرت میں گزارا ناممکن ہو چکا ہے۔ کیا حکمران ایک ماہ اس بجٹ میں گزر بسر کر سکتے ہیں؟ بجلی کا ایک پنکھا چلانا بھی اب عیاشی بن چکا ہے، بل دیکھ کر دل دہل جاتے ہیں۔
ہر نئے دن کے ساتھ ایک نیا ٹیکس اور مہنگائی کی ایک نئی لہر سامنے آ جاتی ہے۔ اس نظام کو بدلنا ہوگا۔ جب حکمرانوں کی اپنی جیب سے کچھ نہ جائے تو انہیں عوام کے درد کا احساس کیسے ہوگا؟ معاشی آزادی کے بغیر حقیقی آزادی کا تصور ممکن نہیں، اس لیے عوام کو مہنگائی سے نجات دلائی جائے۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی کیوں نہیں کی جاتی؟ عام آدمی کی سسکیاں اور حکمرانوں کے کھوکھلے دعوے... یہ تماشا آخر کب ختم ہوگا؟
اپنے اخراجات کم کرو، عوام پر بوجھ ڈالنا بند کرو۔ ملک کو چلانے کے لیے غریب کا خون نچوڑنا بند کیا جائے اور حقیقی معاشی اصلاحات نافذ کی جائیں۔ آئی ایم ایف کی شرائط کا تمام بوجھ غریب پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟ اشرافیہ اپنی مراعات کیوں قربان نہیں کرتی؟ عوام کو ریلیف چاہیے، تقریریں اور دلاسے نہیں۔ مہنگائی کی وجہ سے جرائم اور نفسیاتی مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے، اس کا ذمہ دار کون ہے؟ اگر بجلی پیدا کرنا مہنگا ہے تو پہلے شاہانہ اخراجات کو لگام دی جائے۔ تعلیم، صحت اور خوراک پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا، ان کی قیمتیں فوری کم کی جائیں۔ عوام کو ٹیکس کے بدلے بنیادی سہولیات فراہم کرنا ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ جب تک پارلیمنٹ میں عوام کی تکالیف پر سنجیدگی سے بات نہیں ہوگی، مہنگائی کا حل نہیں نکلے گا۔ مہنگائی کے اس سیاہ دور میں ہر پاکستانی کو اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنا ہوگی۔ بس بہت ہو گیا، اب مزید مہنگائی برداشت نہیں ہوگی۔ حکمرانو! مہنگائی کا حساب دو۔