(+92) 319 4080233
کالم نگار

مولاناسہیل باوا،برطانیہ

مولاناسہیل باوا،برطانیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
سابق قادیانیوں کی ختمِ نبوت کانفرنس، ایک نئے باب کا آغاز
29اور 30 اپریل 2026 کو لندن میں جماعتِ قادیان کے سرے فارم ہاؤس میں منعقد ہونے والا تاریخی مکالمہ بظاہر ایک معمول کا علمی پروگرام نہیں تھا، بلکہ اس کے اثرات آج بھی مسلسل سامنے آ رہے ہیں۔ بعد کے واقعات کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ اس مکالمے نے برطانیہ میں جماعتِ قادیان کی تاریخ کا ایک اہم باب رقم کر دیا ہے۔

اس مکالمے کے بعد جماعتِ قادیان لندن سے وابستہ متعدد اہم شخصیات، معروف خاندانوں کے افراد، جماعت کے اعزاز یافتہ ارکان اور مختلف ذمہ داریاں نبھانے والے کئی افراد نے جماعت سے علیحدگی کا اعلان کیا۔ یہ صورتِ حال اپنی نوعیت کے اعتبار سے غیر معمولی ہے اور اس کے اثرات مسلسل نمایاں ہو رہے ہیں۔

اب ایک اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ جماعتِ قادیان کو چھوڑنے والے ان افراد نے 16 اگست 2026 کو ہڈرزفیلڈ میں ایک عظیم الشان ختمِ نبوت کانفرنس منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ میرے علم کے مطابق برطانیہ میں آج تک ایسا نہیں ہوا کہ جماعتِ قادیان سے علیحدگی اختیار کرنے والے اتنی بڑی تعداد میں ایک ہی پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور ختمِ نبوت کے موضوع پر مشترکہ کانفرنس کا انعقاد کریں۔

اس کانفرنس کی ایک اور نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ برطانیہ کے معروف صحافی ڈیکلن ہنری کو خصوصی طور پر دعوت دی گئی ہے تاکہ وہ اس اہم پیش رفت کا خود مشاہدہ کریں۔ اسی طرح برطانیہ بھر سے جماعتِ قادیان چھوڑنے والے افراد کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔

سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کانفرنس کے دروازے صرف سابق قادیانیوں کے لیے نہیں، بلکہ عام احمدیوں کے لیے بھی کھلے ہیں۔ انہیں خصوصی دعوت دی گئی ہے کہ وہ آئیں، سنیں اور سوال کریں۔ مزید برآں، جماعتِ قادیان کی قیادت اور ذمہ داران کو بھی باقاعدہ دعوت نامے ارسال کیے گئے ہیں تاکہ وہ بھی اس کانفرنس میں شریک ہوں اور براہِ راست ان افراد کی بات سنیں جنہوں نے جماعت سے علیحدگی اختیار کی ہے۔

میرے نزدیک یہ جماعتِ قادیان اور عام احمدیوں دونوں کے لیے ایک اہم موقع ہے۔ اگر اتنی بڑی تعداد میں افراد جماعت سے الگ ہو کر عالمِ اسلام کا حصہ بن رہی ہے تو یقیناً اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی سنجیدہ وجہ موجود ہے۔ انصاف کا تقاضا یہی ہے کہ ان افراد کے مؤقف کو سنا جائے، ان کے دلائل کا جائزہ لیا جائے اور کھلے ذہن کے ساتھ حقیقت تک پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

میری نظر میں 16 اگست 2026 کی ہڈرزفیلڈ ختمِ نبوت کانفرنس صرف ایک اجتماع نہیں، بلکہ برطانیہ میں جاری ایک اہم فکری اور دینی تبدیلی کی عکاس ہے۔ آنے والا وقت اس کانفرنس کی اہمیت اور اس کے اثرات کو مزید واضح کرے گاان شاء اللہ!

کالم نگار : مولاناسہیل باوا،برطانیہ
| | |
13