(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
سونے سے پہلےیہ کام کریں
اکثر نوجوان یہ شکایت کرتے ہیں کہ "ہم آٹھ، نو بلکہ دس گھنٹے بھی سو لیتے ہیں، لیکن صبح آنکھ کھلتے ہی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پوری رات آرام ہی نہیں ملا۔ جسم بوجھل رہتا ہے، طبیعت میں تازگی نہیں ہوتی اور پورا دن تھکن کا احساس غالب رہتا ہے۔"

بظاہر اس مسئلے کا تعلق صرف نیند کے دورانیے سے معلوم ہوتا ہے، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔ انسان صرف جسم نہیں، بلکہ جسم، ذہن اور روح کا مجموعہ ہے۔ اگر جسم بستر پر ہو لیکن ذہن مسلسل پریشانیوں میں الجھا رہے تو لمبی نیند بھی وہ سکون نہیں دے سکتی جس کی انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔

ہماری ایک بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم رات کو سونے کے لیے نہیں جاتے بلکہ اپنے ساتھ دن بھر کی فکری الجھنیں، مالی پریشانیاں، مستقبل کے خدشات، ماضی کی ناکامیاں اور بے شمار ادھورے سوالات بھی بستر تک لے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جسم آرام کی حالت میں ہوتا ہے، لیکن ذہن مسلسل سرگرم رہتا ہے۔ ایسی کیفیت میں نیند تو آ جاتی ہے، مگر سکون نصیب نہیں ہوتا۔

ذرا خود سے پوچھیے!آج رات سونے سے پہلے، آپ کے ذہن میں کون سا خیال سب سے زیادہ الجھن پیدا کرے گا؟ اسی ایک سوال کا جواب اکثر یہ بتا دیتا ہے کہ ہماری بے سکونی کی جڑ کہاں ہے۔ اسلام نے انسان کو یہ تعلیم دی ہے کہ رات آرام، سکون اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کا وقت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سونے سے پہلے کی دعائیں، اذکار، وضو، آیت الکرسی، تسبیحات اور اللہ تعالیٰ پر توکل کی تعلیم دی گئی ہے تاکہ انسان اپنے دل و دماغ کو اضطراب سے نکال کر اطمینان کی کیفیت میں داخل کرے۔

نفسیات میں بھی یہ بات معروف ہے کہ سونے سے پہلے کی ذہنی کیفیت نیند کے معیار پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ "کوگنیٹو بیہیویرل تھراپی فار انسومنیا" (CBT-I) جیسے علاج کے طریقوں کی بنیاد ہی اسی اصول پر ہے کہ سونے سے پہلے کے منفی خیالات کو قابو میں لا کر نیند کا معیار بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ اگر انسان مسلسل منفی خیالات، خوف اور بے چینی میں مبتلا رہے تو جسم مکمل آرام حاصل نہیں کر پاتا۔ اس لیے رات کا آخری حصہ خود احتسابی کے ساتھ ساتھ ذہنی سکون پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ پریشانیوں کو مزید بڑھانے کے لیے۔

یہاں یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ اگر تھکن اور بے سکونی کی کیفیت مسلسل اور شدید رہے، تو یہ کسی طبی سبب کی وجہ سے بھی ہو سکتی ہے، جیسے نیند کے دوران سانس کا مسئلہ یا جسم میں کسی ضروری چیز کی کمی۔ ایسی صورت میں روحانی و ذہنی تدابیر کے ساتھ ساتھ کسی معالج سے رجوع کرنا بھی ضروری ہے۔

میں نے اپنی زندگی میں ایک معمول اپنانے کی کوشش کی ہے، جس کے مثبت نتائج خود محسوس کیے ہیں، اور بہت سے طلبہ و نوجوانوں کو بھی اسی کی تلقین کرتا ہوں۔

بستر کو عدالت نہ بنائیں:
بستر دنیا کے مسائل حل کرنے کی جگہ نہیں ہے۔ جو مسئلہ پورے دن میں حل نہ ہو سکا، وہ عموماً رات گئے لیٹے لیٹے بھی حل نہیں ہوتا۔ البتہ اس کے بارے میں مسلسل سوچتے رہنے سے ذہنی تھکن ضرور بڑھ جاتی ہے۔

سونے سے پہلے اپنے آپ سے صرف اتنا کہیے:
"اب یہ وقت آرام کا ہے، فیصلوں اور پریشانیوں کا نہیں۔ باقی معاملات اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں، صبح تازہ ذہن کے ساتھ ان پر غور کروں گا۔"

یہ چھوٹا سا ذہنی فیصلہ بھی انسان کو غیر ضروری اضطراب سے بچا سکتا ہے۔

شکر گزاری کو رات کا آخری عمل بنائیں:
انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنی محرومیوں کو جلد یاد رکھتا ہے اور نعمتوں کو جلد بھول جاتا ہے۔ اس لیے سونے سے پہلے چند لمحے صرف اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر غور کرنے کے لیے مخصوص کریں۔

سوچیں کہ آج اللہ تعالیٰ نے مجھے کیا کچھ عطا فرمایا؟

ایمان کی نعمت۔

صحت اور سلامتی۔

رزق اور پانی۔

والدین، اولاد یا اہل خانہ کی محبت۔

کسی دوست کی مسکراہٹ۔

کسی طالب علم کی کامیابی۔

کسی ضرورت مند کی مدد کا موقع۔

کوئی علمی فائدہ یا نیکی کرنے کی توفیق۔

جب انسان نعمتوں پر توجہ دیتا ہے تو دل میں شکر پیدا ہوتا ہے، اور شکر دل کو سکون بخشتا ہے۔

سونے سے پہلے ڈیجیٹل خاموشی اختیار کریں:
آج کی دنیا میں بہت سے لوگوں کی رات موبائل فون کے ساتھ ختم ہوتی ہے اور صبح بھی اسی کے ساتھ شروع ہوتی ہے۔سوشل میڈیا، مسلسل خبریں، غیر ضروری ویڈیوز اور بے مقصد سکرولنگ دماغ کو مسلسل متحرک رکھتی ہیں۔ مناسب یہی ہے کہ سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے موبائل، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا سے فاصلہ اختیار کیا جائے۔

صبح کا پہلا جملہ:
اسی طرح صبح بیدار ہوتے ہی سب سے پہلے موبائل نہیں بلکہ اپنے رب کی طرف متوجہ ہوں۔ دن کی ابتدا اللہ کے ذکر، دعا اور مثبت منصوبہ بندی سے ہوگی تو اس کے اثرات پورے دن پر مرتب ہوں گے۔ صبح بیدار ہوتے ہی اپنے دل کو یہ احساس دلائیں:"الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی کا ایک اور دن عطا فرمایا ہے۔ آج کا دن بھی اس کی نعمت ہے، اور میں کوشش کروں گا کہ اسے اس کی رضا کے مطابق گزاروں۔"یہ مختصر سا احساس انسان کی سوچ کو شکایت سے شکر کی طرف منتقل کر دیتا ہے۔

کالم نگار : ڈاکٹرمولانامحمدجہان یعقوب
| | |
11