(+92) 319 4080233
کالم نگار

قاری عبدالرشیدچشتی

قاری عبدالرشیدچشتی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
بچوں میں اعتماد پیدا کرنے کے مؤثر طریقے
غلطی پر فوراً ڈانٹ نہ دیں:
بچہ غلطی کرے تو سب کے سامنے سخت ڈانٹنے کے بجائے پہلے اسے دوبارہ سوچنے کا موقع دیں۔

یہ نہ کہیں:"تمہیں کچھ نہیں آتا!"

یہ کہیں:"آپ کو آتا ہے، ذرا دوبارہ سوچیں، آپ کر سکتے ہیں۔"

چھوٹی کامیابی کو بھی سراہیں:
بچے نے اگر آج کل سے بہتر سبق سنایا ہے تو ضرور کہیں:

"ماشاءاللہ! آج کل سے بہت بہتر پڑھا ہے۔"

بچے کو محسوس ہونا چاہیے کہ استاد اس کی محنت دیکھ رہا ہے۔

بچوں کا آپس میں موازنہ نہ کریں:
ہر بچے کی ذہنی استعداد الگ ہوتی ہے۔ "دیکھو فلاں بچہ تم سے زیادہ سبق یاد کرتا ہے!"اس سے بچہ احساسِ کمتری کا شکار ہو سکتا ہے۔

اس کے بجائے کہیں:
"آپ کل سے آج بہتر کریں، یہی آپ کی کامیابی ہے۔"

پہلے آسان حصہ سنیں:
اگر بچہ استاد سے ڈرتا ہو تو شروع میں اس سے وہ حصہ سنیں جو اسے اچھی طرح یاد ہو۔ جب بچہ کامیابی سے سنا دے گا تو اس کا اعتماد بڑھے گا۔

استاد کا لہجہ محبت والا ہو:
استاد کا چہرہ، لہجہ اور انداز بچے پر بہت اثر ڈالتا ہے۔

کبھی صرف یہ الفاظ بچے کو بہت آگے لے جاتے ہیں:
ماشاءاللہ!

بہت خوب!

کوشش اچھی ہے!

آپ کر سکتے ہیں!

آج پہلے سے بہتر ہے!

غلطی ہوئی ہے، لیکن ہم اسے درست کر لیں گے۔

بچے کو دوسروں کے سامنے سنانے کا موقع دیں:
کبھی مضبوط بچے کو دوسرے بچوں کے سامنے سبق، سبقی یا منزل سنانے کا موقع دیں۔ اس سے:

آواز میں اعتماد آتا ہے۔جھجھک کم ہوتی ہے۔یادداشت مضبوط ہوتی ہے۔امتحان کا خوف کم ہوتا ہے۔لیکن کمزور بچے کو اچانک سب کے سامنے کھڑا کرکے شرمندہ نہ کیا جائے؛ پہلے اسے تیار کیا جائے۔ غلطی کو ناکامی نہ بنائیں۔

بچے کو یہ سمجھائیں:
"غلطی کا مطلب یہ نہیں کہ تم ناکام ہو؛ غلطی کا مطلب ہے کہ ہمیں اس مقام کو مزید مضبوط کرنا ہے۔"

یہ سوچ بچے کا خوف ختم کرتی ہے۔ امتحان کو خوف نہیں، تربیت بنائیں۔امتحان کے وقت ایسا ماحول نہ بنایا جائے کہ بچہ استاد یا ممتحن کو دیکھ کر گھبرا جائے۔

امتحان میں:
پہلے آسان مقام سے شروع کریں۔بچے کو مکمل توجہ سے سنیں۔غیر ضروری دباؤ نہ ڈالیں۔غلطی کی اصلاح بعد میں بھی کی جا سکتی ہے۔امتحان کا مقصد بچے کو توڑنا نہیں، اس کی کمزوری معلوم کرکے اسے مضبوط کرنا ہے۔

استاد کے لیے سنہری اصول:
بچے کی عزت محفوظ رہے گی تو اس کا اعتماد بڑھے گا۔

ہر بچے کو یہ احساس ہونا چاہیے:
"میرا استاد میری غلطی درست کرے گا، لیکن مجھے ذلیل نہیں کرے گا۔"

بہترین جملہ:
"غلطی ہو سکتی ہے، لیکن ہمت نہیں ہارنی؛ ہم دوبارہ کوشش کریں گے۔"

کالم نگار : قاری عبدالرشیدچشتی
| | |
24