(+92) 319 4080233
کالم نگار

ضیاء چترالی

ضیاء چترالی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
زمین کا سب سے گہرا کنواں
انسان زمین کے اندر کھدائی کرکے کتنی گہرائی تک پہنچ سکا ہے، تو جواب ہے: 12 ہزار 262 میٹر۔ یہ کارنامہ دنیا کے مشہور "کولا سپرڈیپ بورہول" (Kola Superdeep Borehole) نے انجام دیا، جو آج بھی انسانی تاریخ کی سب سے گہری کھدائی ہے۔

یہ منصوبہ سابق سوویت یونین نے زمین کی بیرونی پرت (Earth's Crust) کے راز جاننے کے لیے شروع کیا۔ تقریباً 20 سال تک جاری رہنے والی اس سائنسی مہم کا ہدف 15 ہزار میٹر کی گہرائی تک پہنچنا تھا، مگر سائنس کو ایک ایسی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا جس نے دنیا کی جدید ترین مشینوں کو بھی بے بس کر دیا۔

جیسے جیسے کھدائی آگے بڑھتی گئی، زمین کے اندر درجۂ حرارت توقع سے کہیں زیادہ بڑھتا گیا۔ 12 ہزار 262 میٹر کی گہرائی پر درجۂ حرارت تقریباً 180 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ چکا تھا، جبکہ اندازہ تھا کہ مزید تین کلومیٹر نیچے یہ 300 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہو جائے گا۔ اس شدت حرارت میں ڈرلنگ کا سامان نرم پڑنے لگا، چٹانیں غیر متوقع انداز میں بدلنے لگیں اور آخرکار منصوبہ روکنا پڑا۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اتنی گہرائی تک پہنچنے کے باوجود انسان زمین کی بیرونی پرت کا بھی مکمل سفر طے نہ کر سکا، کیونکہ بعض مقامات پر اس کی موٹائی 40 کلومیٹر تک ہے۔

سب سے حیران کن حقیقت یہ ہے کہ انسان اب تک زمین میں صرف 12.262 کلومیٹر تک ہی پہنچ سکا، جبکہ زمین کے مرکز تک فاصلہ تقریباً 6371 کلومیٹر ہے۔ یعنی انسانی تاریخ کی سب سے گہری کھدائی بھی زمین کے مرکز تک کے فاصلے کا صرف تقریباً 0.2 فیصد بنتی ہے۔ سائنس دانوں کے اندازے کے مطابق زمین کے عین مرکز میں درجۂ حرارت 5500 سے 6000 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ہے، جو سورج کی سطح کے درجۂ حرارت کے قریب ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ ٹیکنالوجی کے ساتھ انسان کے لیے زمین کی آخری تہہ تک پہنچنا فی الحال ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

اس کنویں کی کھدائی کے دوران سائنس دانوں کو کئی اہم حقائق معلوم ہوئے۔ زمین کی تہہ در تہہ ساخت کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئیں، گہرائی میں بڑی مقدار میں میتھین گیس ملی، اربوں سال پرانی چٹانوں اور خردبینی فوسلز (Microfossils) نے زمین کی قدیم تاریخ پر نئی روشنی ڈالی، جبکہ بعض چٹانوں کی خصوصیات نے زمین اور چاند کی تشکیل سے متعلق سائنسی تحقیق کو مزید تقویت دی۔

بعد ازاں اس کنویں کے بارے میں ایک سنسنی خیز افواہ پوری دنیا میں پھیل گئی کہ کھدائی کے دوران زمین کی گہرائی سے انسانوں کی چیخیں اور خوفناک آوازیں سنائی دیں، اسی لیے اسے "جہنم کا کنواں" (Well to Hell) کہا جانے لگا۔ تاہم بعد میں تحقیقی مرکز کے سربراہ اور ماہرین ارضیات نے اس کی واضح تردید کرتے ہوئے بتایا کہ ایسی تمام کہانیاں بے بنیاد ہیں۔ ان کے مطابق جو آوازیں ریکارڈ ہوئیں وہ زمین کی گہرائی میں موجود چٹانوں، شدید دباؤ اور پگھلے ہوئے مادے (Magma) کی قدرتی گونج تھیں، جنہیں بعض لوگوں نے پراسرار رنگ دے دیا۔

دنیا کا یہ مشہور کنواں آج بھی روس کے جزیرہ نما کولا میں موجود ہے۔ البتہ 1992 میں منصوبہ بند کر دیا گیا، تمام مشینری ہٹا دی گئی، عمارتیں ویران ہو گئیں اور کنویں کے انتہائی باریک دہانے، جس کا قطر صرف 23 سینٹی میٹر (تقریباً 9 انچ) ہے کو ایک موٹے فولادی ڈھکن سے مضبوطی سے بند کر دیا گیا، تاکہ کوئی شخص یا چیز اس میں نہ گر سکے۔

یوں یہ مقام آج بھی انسانی تجسس، سائنسی جستجو اور زمین کے سینے میں پوشیدہ ان رازوں کی خاموش یادگار بنا کھڑا ہے، جن تک پہنچنے کی کوشش میں انسان اپنی تمام تر ترقی کے باوجود ایک حد سے آگے نہ بڑھ سکا اور اسے اپنی بے بسی کا اعتراف کرنا پرا۔

کالم نگار : ضیاء چترالی
| | |
17