(+92) 319 4080233
کالم نگار

ابو ذوہیب محمد ظفر علی سیالوی

ابو ذوہیب محمد ظفر علی سیالوی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
کیا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم غلام تھے؟
چند باتیں عرض ہیں:
1. مقام کا جھگڑا کیسا؟
کیا اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم صحابی نہیں ہیں؟ بالیقین ہیں۔ جب دونوں اہلِ بیت و صحابہ رضی اللہ عنہم صحابی ہیں، تو پھر "سردار و غلام" کا جھگڑا ہی بے معنی ہو جاتا ہے۔

2. غلامی نہیں، محبت و ادب تھا.نہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اہلِ بیت کے غلام تھے، نہ اہلِ بیت صحابہ کے۔ وہ تو آپس میں "پیر بھائی" تھے۔ جو روایات پیش کر کے "غلامی" ثابت کی جاتی ہیں، وہ درحقیقت غلامی نہیں بلکہ بے مثال محبت، ادب اور ایک دوسرے کی عزت و تکریم تھیں۔

اس کی دو جھلکیاں ملاحظہ ہوں:
پہلی جھلکی:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما علم کے لیے "حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ " کے دروازے پر جا کر بیٹھ جاتے۔ ادب سے دروازہ نہ کھٹکھٹاتے۔ دھول چہرے پر اڑتی رہتی، مگر وہ اٹھتے نہ تھے۔ یہ غلامی نہ تھی، یہ عشقِ علم تھا۔

دوسری جھلکی:
جب حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سوار ہونے لگے تو حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ خود ان کی رکاب تھامنے لگے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا "آپ صحابیِ رسول ﷺ ہیں"۔ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ بولے "ہمیں اہل بیت کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنے کا حکم ہے"۔ جواب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا "ہمیں بھی اہل علم کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرنے کا حکم ہے"۔

سبحان اللہ! ایک دروازے پر بیٹھ گیا، دوسرا رکاب تھامنے لگ گیا۔ نہ کوئی بڑا، نہ کوئی چھوٹا۔ بس ادب ہی ادب اور محبت ہی محبت۔

3. اصل غلامی تو ایک ہی ہے:
اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم ﷺ کے غلام تھے، اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی نبی کریم ﷺ کے غلام تھے۔اور ہم؟الحمدللہ! ہم آقا کریم ﷺ کے بھی غلام ہیں، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بھی غلام ہیں، اور اہلِ بیتِ پاک رضی اللہ عنہم کے بھی غلام ہیں۔یہی اہلِ سنت کا عقیدہ ہے۔ یہی راہِ اعتدال ہے۔ یہی نجات کا راستہ ہے۔ اسی میں عافیت ہے۔

حضرت ابی سلمہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:

اَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُمَا قَامَ اِلٰى زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُ فَاَخَذَ لَهُ بِرِكَابِهِ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: تَنَحَّ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: اِنَّا هٰكَذَا نُؤْمَرُ اَنْ نَفْعَلَ بِكُبَرَائِنَا وَعُلَمَائِنَا۔ ’’حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان کی سواری کی رکاب پکڑ لی۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی! رک جائیے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں اسی طرح حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے بڑوں اور علماء کے ساتھ یہی سلوک کریں‘‘۔

اس اثر کی سند صحیح ہے :
امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اس کی سند صحیح ہے۔ امام ذہبی رحمۃ اللہ علیہ نے بھی ان سے اتفاق کیا ہے۔ حسین سلیم اسد لکھتے ہیں: اس کی سند حسن ہے۔ عمر عبد السلام التدمری لکھتے ہیں: اس کی سند حسن ہے۔

دوسری روایت:
حضرت امام شعبی رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:

ذَهَبَ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُ لِيَرْكَبَ وَوَضَعَ رِجْلَهُ فِي الرِّكَابِ، فَاَمْسَكَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُمَا بِالرِّكَابِ، فَقَالَ زَيْدٌ: تَنَحَّ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هٰكَذَا نَفْعَلُ بِالْعُلَمَاءِ وَالْكُبَرَاءِ۔ ’’حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سواری پر سوار ہونے کے لیے گئے اور پاؤں رکاب میں رکھا، تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رکاب پکڑ لی۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی! رک جائیے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہم علماء اور بڑوں کے ساتھ ایسے ہی کرتے ہیں‘‘۔

تیسری روایت:
حضرت عمار بن عمار رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:

اَنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُ رَكِبَ يَوْمًا، فَاَخَذَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللّهُ عَنْهُمَا بِرِكَابِهِ، فَقَالَ زَيْدٌ: تَنَحَّ يَا ابْنَ عَمِّ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هٰكَذَا اُمِرْنَا اَنْ نَفْعَلَ بِعُلَمَائِنَا وَكُبَرَائِنَا، فَقَالَ زَيْدٌ: اَرِنِيْ يَدَكَ، فَاَخْرَجَ يَدَهُ، فَقَبَّلَهَا، فَقَالَ زَيْدٌ: هٰكَذَا اُمِرْنَا اَنْ نَّفْعَلَ بِاَهْلِ بَيْتِ نَبِيِّنَا صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔

’’ایک دن حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سوار ہوئے تو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی رکاب پکڑ لی۔ حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی! رک جائیے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے عرض کیا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے علماء اور بڑوں کے ساتھ ایسا ہی کریں۔ تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اپنا ہاتھ دکھاؤ۔ انہوں نے ہاتھ آگے بڑھایا تو حضرت زید رضی اللہ عنہ نے اسے بوسہ دیا اور فرمایا: ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کے اہلِ بیت کے ساتھ ایسا ہی کریں۔

تھوڑا غور فرمائیں:
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، جو اہلِ بیتِ نبوی میں سے ہیں، وہ صحابیِ رسول حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کی تکریم و تعظیم کر رہے ہیں۔ خود ان کی سواری کی رکاب پکڑ رہے ہیں۔ ادھر حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ فرما رہے ہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم اپنے نبی ﷺ کے اہلِ بیت کی تعظیم کریں۔

اب بتائیے، ان دونوں میں سے کسے کس کا ’’غلام‘‘ کہا جائے گا؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ غلامی یا نوکری نہیں، بلکہ باہمی محبت، عزت و احترام کا جذبہ تھا۔ ایک نے علم کی وجہ سے بڑے کا ادب کیا، دوسرے نے اہلِ بیت ہونے کی وجہ سے ان کے ہاتھ کو بوسہ دیا۔

حیرت کی بات ہے کہ لوگ اس سادہ سی بات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔ صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کی کسی روایت میں نہیں ملتا کہ انہوں نے ایک دوسرے کو، یا خود کو، دوسرے کا ’’غلام‘‘ کہا ہو۔ اگر کہیں محبتاً یہ لفظ آ بھی جائے، تو اس کا مطلب مجازی ہے۔ جیسے ہم اپنے دوست، احباب اور بزرگوں سے تعلقِ محبت کی بنا پر کہہ دیتے ہیں: ’’جناب، ہم تو آپ کے خادم ہیں‘‘۔ اس کا مطلب حقیقی غلامی نہیں ہوتا، بلکہ دل سے عزت و تعظیم کا اظہار ہوتا ہے۔یہی جذبہ صحابہ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کا ایک دوسرے کے لیے تھا۔ نہ کوئی چھوٹا، نہ کوئی بڑا۔ سب ایک دوسرے کے لیے عزت و احترام کا پیکر تھے۔

حضرت عکرمہ رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں:
لَمَّا قُبِضَ رَسُوْلُ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ لِرَجُلٍ: هَلُمَّ فَلْنَتَعَلَّمَ مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَسْأَلُهُمْ، فَاِنَّهُمْ كَثِیْرٌ۔ فَقَالَ: الْعَجَبُ وَاللّهِ لَكَ یَا ابْنَ عَبَّاسٍ! اَتَرٰی النَّاسَ یَحْتَاجُوْنَ اِلَیْكَ، وَفِی النَّاسِ مَنْ تَرٰی مِنْ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَتَرَکْتُ ذٰلِكَ وَاَقْبَلْتُ عَلَى الْمَسْأَلَةِ وَتَتَبُّعِ اَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاِنْ كُنْتُ لَآتِی الرَّجُلَ فِی الْحَدِیْثِ یَبْلُغُنِیْ اَنَّهٗ سَمِعَهٗ مِنْ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَجِدُهٗ قَائِلًا، فَاَتَوَسَّدُ رِدَائِیْ عَلٰى بَابِ دَارِهٖ، تَسْفِی الرِّیَاحُ عَلٰى وَجْهِیْ، حَتّٰى یَخْرُجَ اِلَیَّ، فَاِذَا رَآنِیْ قَالَ: یَا ابْنَ عَمِّ رَسُوْلِ اللّهِ مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَدِیْثٌ بَلَغَنِیْ اَنَّكَ تُحَدِّثُهٗ عَنْ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاَحْبَبْتُ اَنْ اَسْمَعَهٗ مِنْكَ۔ فَیَقُوْلُ: هَلَّا اَرْسَلْتَ اِلَیَّ فَآتِیَكَ؟ فَاَقُوْلُ: اَنَا كُنْتُ اَحَقَّ اَنْ آتِیَكَ۔ وَكَانَ ذٰلِكَ الرَّجُلُ یَرَانِیْ قَدْ ذَهَبَ اَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّهِ صَلَّى اللّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدِ احْتَاجَ النَّاسُ اِلَیَّ، فَیَقُوْلُ: اَنْتَ كُنْتَ اَحَقَّ مِنِّیْ۔

’’جب رسول اللہ ﷺ وصال فرما گئے تو میں نے ایک آدمی سے کہا: آؤ! ہم رسول اللہ ﷺ کے صحابہ سے علم سیکھیں۔ ان سے سوالات کریں؛ کیونکہ وہ بہت زیادہ ہیں۔ اس نے کہا: اللہ کی قسم، اے ابن عباس! تم پر تعجب ہے۔ کیا تمہارا خیال ہے کہ لوگ تمہارے محتاج ہوں گے، حالانکہ صحابہ کرام میں سے وہ لوگ موجود ہیں جنہیں تم دیکھ رہے ہو؟ تو میں نے وہ بات چھوڑ دی اور علم کے سوالات اور رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کی تلاش میں لگ گیا۔ جب مجھے کسی حدیث کے بارے میں خبر پہنچتی کہ فلاں صحابی نے وہ رسول اللہ ﷺ سے سنی ہے، تو میں ان کے پاس جاتا۔ اگر وہ دوپہر کو قیلولہ فرما رہے ہوتے، تو میں ان کے دروازے پر اپنی چادر تکیہ بنا کر لیٹ جاتا۔ تیز ہوا میرے چہرے پر گرد اڑاتی رہتی، یہاں تک کہ وہ باہر تشریف لاتے۔ جب وہ مجھے دیکھتے تو فرماتے: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا زاد بھائی! آپ کو کیا ضرورت پیش آئی؟ میں عرض کرتا: مجھے خبر ملی ہے کہ آپ رسول اللہ ﷺ سے یہ حدیث بیان کرتے ہیں، تو میں نے پسند کیا کہ میں اسے آپ سے خود سنوں۔ تو وہ فرماتے: آپ نے مجھے پیغام کیوں نہ بھیجا؟ میں خود آپ کے پاس چلا آتا۔ میں عرض کرتا: میرے لیے زیادہ حق یہ تھا کہ میں آپ کے پاس آتا۔ اور وہ آدمی جس نے مجھے روکا تھا، بعد میں دیکھتا کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ دنیا سے رخصت ہو گئے اور لوگ میرے محتاج ہو گئے، تو وہ کہتا: آپ مجھ سے زیادہ حق دار تھے‘‘۔

اس حدیث کی سند صحیح ہے:
امام ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ الحاکم رحمۃ اللہ علیہ(المتوفی:405ھ) لکھتے ہیں:

هٰذَا حَدِیْثٌ صَحِیْحٌ عَلٰى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ

’’یہ حدیث امام بخاری کی شرط پر صحیح ہے‘‘۔

علامہ امام ابو الحسن نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی رحمۃ اللہ علیہ( المتوفی: 807ھ) لکھتے ہیں: رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ، وَرِجَالُهٗ رِجَالُ الصَّحِيْحِ

’’اسے امام طبرانی رحمہ اللہ نے روایت کیا ہے اور اس کے تمام راوی صحیح کے راوی ہیں‘‘۔

اس روایت سے صاف پتہ چلتا ہے کہ صحابہ کرام اور اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہم کے درمیان معاملہ ’’غلامی‘‘ کا نہیں، ’’محبت و تعظیم‘‘ کا تھا۔

دیکھیے، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اہلِ بیت سے ہیں، ’’ترجمان القرآن‘‘ ہیں، مگر وہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر چادر تکیہ بنا کر لیٹے ہوئے ہیں۔ تیز ہوا چہرے پر گرد اڑا رہی ہے، مگر وہ اٹھ نہیں رہے۔ کیوں؟ کیونکہ انہیں علم کی قدر ہے، اور نبی کریم ﷺ کے صحابی رضی اللہ عنہ کی عزت ہے۔

جب وہ صحابی رضی اللہ عنہ نکلتے ہیں تو فرماتے ہیں: اے رسول اللہ ﷺ کے چچا کے صاحبزادے! آپ نے مجھے بلایا کیوں نہیں؟ جواب میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: میرا زیادہ حق بنتا تھا کہ میں آپ کے پاس آتا۔

یہ غلامی نہیں، یہ ادب ہے۔ یہ نوکری نہیں، یہ محبت ہے۔ ایک طرف صحابی رضی اللہ عنہ اپنے شاگرد کی عزت کر رہے ہیں فقط اس لیے کہ وہ فردِ اہلِ بیت ہیں۔ دوسری طرف اہلِ بیت کا فرد استاذ کے سامنے جھک رہا ہے، اس لیے کہ وہ استاذ بھی ہے اور نبی کریم ﷺ کا صحابی بھی۔

واضح ہوا کہ صحابہ و اہلِ بیت رضی اللہ عنہم کا رشتہ ایک دوسرے کی تعظیم، توقیر اور محبت کا رشتہ تھا۔ کوئی کسی کا غلام نہ تھا۔ سب نبی کریم ﷺ کی تربیت یافتہ جماعت تھی اور نسبتِ مصطفیٰ ﷺ کا ادب و احترام کرتے تھے۔

مأخَذ

(الطبرانی: المعجم الکبیر، جلد: 10، صفحہ: 244، رقم الحدیث: 10592، القاہرۃ۔ الحاکم: المستدرک علی الصحیحین، کتاب العلم، جلد: 1، صفحہ: 188، رقم الحدیث: 363، دار الکتب العلمیۃ، بیروت۔ البیہقی: المدخل إلی السنن الکبری، باب توقیر العلم والعالم، صفحہ: 386، رقم الحدیث: 673، دار الخلفاء للکتاب الاسلامی، الکویت۔ ابن عساکر: تاریخ دمشق الکبیر، جلد: 73، صفحہ: 184، دار الفکر، بیروت۔ ابن کثیر: البدایۃ والنہایۃ، جلد: 9، صفحہ: 56، دار ابن کثیر، بیروت۔ الہیثمی: مجمع الزوائد، کتاب المناقب، مناقب عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، جلد: 9، صفحہ: 277، رقم الحدیث: 15521، مکتبۃ القدسی، القاہرۃ۔ ابن منظور: مختصر تاریخ دمشق، جلد: 12، صفحہ: 301، دار الفکر، دمشق)(ابن المقرئ: الرخصۃ فی تقبیل الید، صفحہ: 95، رقم الحدیث: 30، دار العاصمۃ، الریاض۔ ابن عساکر: تاریخ دمشق الکبیر، جلد: 19، صفحہ: 326، دار الفکر، بیروت۔ ابن منظور: مختصر تاریخ دمشق، جلد: 9، صفحہ: 121، دار الفکر، دمشق۔ الہندی: کنزالعمال، کتاب المناقب، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ، جلد: 13، صفحہ: 396، رقم الحدیث: 37062، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت)(الفسوی: المعرفۃ والتاریخ، زید بن ثابت، جلد: 1، صفحہ: 484، مطبعۃ الارشاد، بغداد۔ ابو نعیم: معرفۃ الصحابۃ، زید بن ثابت بن الضحاک، جلد: 3، صفحہ: 1154، رقم الحدیث: 2907، دار الوطن للنشر، الریاض۔ البیہقی: المدخل الی السنن الکبری، صفحہ: 137، رقم الحدیث: 93، دار الخلفاء للکتاب الاسلامی، الکویت۔ الخطیب البغدادی: الفقیہ والمتفقہ، جلد: 2، صفحہ: 197، دار ابن الجوزی۔ ابن العربی: سراج المریدین فی سبیل الدین، ذکر بر المعلم، جلد: 4، صفحہ: 77، دار التحدیث الکتانیۃ، بیروت۔ ابن عساکر: تاریخ دمشق الکبیر، جلد: 19، صفحہ: 326، دار الفکر، بیروت) اس اثر کی سند صحیح ہے۔ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 852ھ) لکھتے ہیں: وَرَوٰى يَعْقُوْبُ بْنُ سُفْيَانَ بِاِسْنَادٍ صَحِيْحٍ عَنِ الشَّعْبِيِّ۔ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، زید بن ثابت، رقم الترجمۃ: 2887، جلد: 2، صفحہ: 491، دار الکتب العلمیۃ، بیروت) شیخ محمد الخضر بن سید عبد اللہ بن احمد الشنقیطی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی: 1354ھ) لکھتے ہیں: وَرُوِيَ عَنِ الشَّعْبِيِّ بِاِسْنَادٍ جَيِّدٍ۔ (کوثر المعانی الدراری فی کشف خبایا صحیح البخاری، جلد: 6، صفحہ: 425، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت).ابن سعد: الطبقات الکبری، زید بن ثابت، جلد: 2، صفحہ: 275، دار الکتب العلمیۃ، بیروت۔ الحاکم: المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ، ذکر مناقب زید بن ثابت کاتب النبی ﷺ، جلد: 3، صفحہ: 478، رقم الحدیث: 5785، دار الکتب العلمیۃ، بیروت۔ الحاکم: المستدرک علی الصحیحین، کتاب الفرائض، جلد: 4، صفحہ: 371، رقم الحدیث: 7956، دار الکتب العلمیۃ، بیروت۔ النسائی: السنن الکبری، کتاب الفرائض، جلد: 6، صفحہ: 348، رقم الحدیث: 12196، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت۔ ابن عساکر: تاریخ دمشق الکبیر، زید بن اسلم بن عبد اللہ، جلد: 19، صفحہ: 325، دار الفکر للطباعۃ والنشر والتوزیع، بیروت۔ ابن الجوزی: صفۃ الصفوۃ، زید بن ثابت، جلد: 1، صفحہ: 275، دار الحدیث، القاھرۃ۔ ابن الجوزی: المنتظم فی تاریخ الملوک والامم، زید بن ثابت، رقم الترجمۃ: 332، جلد: 5، صفحہ: 215، دار الکتب العلمیۃ، بیروت۔ سبط ابن الجوزی: مرآۃ الزمان فی تواریخ الاعیان، جلد: 7، صفحہ: 84، دار الرسالۃ العالمیۃ، دمشق۔ الذھبی: سیر اعلام النبلاء، جلد: 2، صفحہ: 437، مؤسسۃ الرسالۃ، بیروت۔ الذھبی: تاریخ الاسلام، حرف الزاء، جلد: 4، صفحہ: 57، دار الکتاب العربی۔ ابن کثیر: البدایۃ والنھایۃ، جلد: 8، صفحہ: 24، دار ابن کثیر، بیروت)

کالم نگار : ابو ذوہیب محمد ظفر علی سیالوی
| | |
11