(+92) 319 4080233
کالم نگار

محمدعلی،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ

محمدعلی،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
نئے علماء کہاں گم ہوجاتےہیں؟
گزشتہ برس میرے علاقے کے ایک بڑے مدرسے سے 60 طلبہ نے فراغت حاصل کی، اور سندِ فضیلت کے ساتھ عالم بن کر میدانِ عمل میں قدم رکھا۔ سب کے چہروں پر دین کی خدمت کا جذبہ تھا، اور آنکھوں میں امت کے مستقبل کے خواب تھے۔ لیکن آج، ایک سال بعد جب نظر دوڑاتا ہوں، تو ان میں سے بمشکل 8 یا 10 حضرات ہی منبر، درس یا دعوت کے کسی کام میں مصروف نظر آتے ہیں۔ باقی کہاں گئے؟ یہ سوال دل کو بے چین کر دیتا ہے۔

اس المیے کی سب سے بڑی وجہ معاشی تنگی ہے۔ جب ایک عالم امامت یا تدریس کا آغاز کرتا ہے، تو اسے بمشکل 15 سے 20 ہزار روپے ماہانہ ملتے ہیں۔ مہنگائی کے اس دور میں یہ رقم گھر کا کرایہ، راشن اور بچوں کی تعلیم تک پوری نہیں کر پاتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مجبوراً بہت سے نوجوانو

ں کو دکان، ملازمت یا کوئی اور کاروبار اختیار کرنا پڑتا ہے۔ رات کو جب وہ اکیلے بیٹھتے ہیں، تو ان کی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں، اور وہ سوچتے ہیں: "کیا میں نے 10 سال کی محنت، اسی دن کے لیے کی تھی؟" دوسرا بڑا سبب تربیت اور نیت کا فرق ہے۔ کچھ طلبہ علم کو صرف سند حاصل کرنے کا ذریعہ سمجھ کر پڑھتے ہیں۔ ان کے دل میں امت کا درد پروان نہیں چڑھ پاتا۔ جب وہ میدان میں آتے ہیں، اور لوگوں کے مشکل سوالات، تنقید اور عزت نہ ملنے کا سامنا کرتے ہیں، تو جلد ہمت ہار جاتے ہیں، اور کہہ دیتے ہیں: "یہ کام ہمارے بس کا نہیں ہے۔"

آج کے سوشل میڈیا کے دور نے ایک نیا زخم دے دیا ہے۔ یہاں ہر کوئی چاہتا ہے کہ اس کی بات زیادہ سے زیادہ لوگ سنیں۔ لیکن حق بات ہمیشہ کڑوی ہوتی ہے۔ اس لیے بہت سے لوگ سچ بولنے کے بجائے، وہی کہتے ہیں جو عوام کو پسند آئے۔ لائکس اور فالورز کے چکر میں علم کا اصل مقصد، یعنی اصلاح و ہدایت، پامال ہو کر رہ جاتا ہے۔

چوتھی رکاوٹ فرقہ واریت ہے۔ جیسے ہی کوئی نیا عالم کام شروع کرتا ہے، سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے: "آپ کا تعلق کس مسلک سے ہے؟" اس بحث و چپقلش میں وہ الجھ کر رہ جاتا ہے۔ نہ وہ کھل کر بات کر پاتا ہے، اور نہ ہی امت کو جوڑ پاتا ہے۔ آخر کار، تنگ آ کر کنارہ کشی اختیار کر لیتا ہے۔

اس کا حل کیا ہے؟
اس مسئلے کا حل انفرادی، ادارہ جاتی اور اجتماعی، تینوں سطحوں پر درکار ہے۔

1. معاشرے کی ذمہ داری:
ہمیں چاہیے کہ ہم علماء کی عزت کریں، اور ان کی مالی کفالت کا نظام بنائیں۔ مساجد اور مدارس میں "علماء فنڈ" قائم کیے جائیں، تاکہ ایک عالم باعزت زندگی گزار سکے۔

2. مدارس کی ذمہ داری:
مدارس کو صرف کتابی علم تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ طلبہ کو خطابت، میڈیا اور عملی زندگی کے تقاضوں کے لیے بھی تیار کیا جائے۔ ساتھ ہی، ان کی اخلاقی اور روحانی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔

3. نئے عالم کی ذمہ داری:
ہر نئے فارغ التحصیل کو چاہیے کہ وہ ابتدائی سختیوں کو صبر سے برداشت کرے۔ اخلاص کو ہاتھ سے نہ جانے دے۔ اللہ کی رضا کو پیشِ نظر رکھے، لوگوں کی واہ واہ کو نہیں۔

اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کی صحیح سمجھ، اور اس کی خدمت کا شوق عطا فرمائے۔ آمین !

کالم نگار : محمدعلی،شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ بنوریہ عالمیہ
| | |
19