(+92) 319 4080233
کالم نگار

مفتی محمد نعیم خان

مدرس ، مفتی اور آئی ٹی پروفیشنل

مفتی محمد نعیم خان ولد محمد اسلم صابر 1978 کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے، ان کے اجداد قیام پاکستان کے وقت ریاست میوات ہندوستان سے ہجرت کرکے پاکستان آباد ہوئے ۔

2023 ء میں پیس اینڈ ایجوکیشن اور ریلو کی جانب سے اسلام آباد میں منعقد ہونے والی ٹیچر ٹریننگ ورک شاپ میں شرکت کی۔ جامعہ بنوریہ عالمیہ کی طرف سے بہتر کارکردگی پر بیسٹ پرفارمنس ایوارڈ سے نوازا گیا۔

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
کیا بٹ کوائن صرف نمبروں کا مجموعہ ہے؟
بلاک چین، بٹ کوائن اور جدید مالیاتی نظام:
یہ مجموعہ بلاک چین، بٹ کوائن، ڈیجیٹل کرنسی اور جدید مالیاتی نظام کے تکنیکی و فقہی پہلوؤں کو سمجھنے کے لیے مرتب کیا گیا ہے۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جن مسائل کا تعلق ٹیکنالوجی سے ہے، انہیں پہلے صحیح طور پر سمجھ لیا جائے، کیونکہ کسی بھی جدید مالیاتی نظام پر شرعی حکم قائم کرنے سے پہلے اس کی فنی حقیقت (Technical Reality) کا درست ادراک ناگزیر ہے۔ فقہاء کرام ہمیشہ یہی طریقہ اختیار کرتے ہیں کہ پہلے متعلقہ شعبے کے ماہرین سے مسئلے کی حقیقت معلوم کرتے ہیں، پھر انہی حقائق کی بنیاد پر شرعی اصولوں کے مطابق حکم مرتب کرتے ہیں۔

بلاک چین اور بٹ کوائن کی حقیقت:
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ بٹ کوائن اور بلاک چین حقیقت میں کیا ہیں۔ بٹ کوائن کسی کمپنی کے سرور، کسی بینک یا کسی ایک ملک کے کمپیوٹر میں محفوظ نہیں ہوتا، بلکہ دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہزاروں کمپیوٹرز (Nodes) پر مشتمل ایک غیر مرکزی (Decentralized) نظام کا حصہ ہوتا ہے۔

ڈیجیٹل کرنسی کا بنیادی تصور یہ تھا کہ ایک ایسا ذریعۂ مبادلہ وجود میں آئے جو کاغذی نوٹوں اور سکوں پر منحصر نہ ہو، بلکہ مکمل طور پر ڈیجیٹل ہو۔ اس کے ذریعے بین الاقوامی لین دین کو تیز، محفوظ اور نسبتاً کم لاگت پر ممکن بنایا جا سکے، جبکہ بینکوں، مالیاتی اداروں اور جغرافیائی سرحدوں کی بہت سی رکاوٹوں کو بھی کم کیا جا سکے۔

اسی تصور کو عملی شکل دینے کے لیے بلاک چین ٹیکنالوجی وجود میں آئی۔

ڈیجیٹل والیٹ اور بلاک چین:

ڈیجیٹل کرنسی کو سمجھنے کے لیے ای میل کی مثال نہایت موزوں ہے۔ جس طرح ایک ای میل ایک میل باکس سے دوسرے میل باکس میں منتقل ہوتی ہے، اسی طرح ڈیجیٹل کرنسی ایک ڈیجیٹل والیٹ سے دوسرے ڈیجیٹل والیٹ میں منتقل ہوتی ہے۔

یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ منتقلی کس نظام کے ذریعے ہوتی ہے؟

اس کا جواب بلاک چین ہے۔

بلاک چین محض ایک ڈیٹا بیس نہیں بلکہ ایسا سافٹ ویئر پروٹوکول ہے جو ڈیجیٹل اثاثوں کی ملکیت، ان کی منتقلی اور تمام لین دین کا محفوظ ریکارڈ برقرار رکھتا ہے۔ گویا یہ ڈیجیٹل مالیاتی نظام کا بنیادی انفراسٹرکچر یا آپریٹنگ سسٹم ہے۔

کیا بٹ کوائن صرف نمبروں کا مجموعہ ہے؟:
عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ بٹ کوائن حقیقت میں صرف نمبرز ہیں، اس لیے ان کی کوئی مستقل حیثیت نہیں۔ یہ تعبیر مکمل طور پر درست نہیں۔

درحقیقت محض نمبر ہونے کا اشتباء ٹیکنیکل وضاحت کرنے والوں نے پیدا کیا ہے جن کا کہنا ہےکہ ڈیجیٹل کرنسی کسی کے والیٹ میں موجود ہوتی ہی نہیں ہے بلکہ محض نمبر ہوتے ہیں ڈیجیٹل کرنسی تو بلاک چین میں موجود ہوتی ہے جس کا صرف ایکسس آپ کے والیٹ میں نمبر کی بنیاد پر پرائیویٹ کی کے ذریعہ ہوتا ہے۔

چونکہ سینٹرلائزڈ کلاؤڈ کمپیوٹنگ میں ایسا ہی ہوتا ہے اور اے پی آئیز بیسڈ ان گنت ایپس میں ڈیٹا ہرصارف کے پی سی یا موبائل میں ہوتا ہی نہیں ہے ڈیٹا تو کلاؤڈ پر ہوتا ،مگر یہ کہنا کہ ڈیٹا ہوتا ہی نہیں محض نمبر ہیں یہ تعبیر ٹھیک نہیں ۔

الغرض بٹ کوائن کرپٹوگرافی پر مبنی ملکیت (Cryptographic Ownership Record) کا محفوظ ریکارڈ ہے۔ صارف کے والیٹ میں جو اعداد دکھائی دیتے ہیں، وہ دراصل اس کے زیرِ ملکیت ڈیجیٹل اثاثوں کی مقدار کی نمائندگی کرتے ہیں، نہ کہ صرف بے معنی نمبرز۔

پرائیویٹ کی کی حقیقت:
ہر ڈیجیٹل والیٹ تک رسائی ایک خفیہ کلید (Private Key) کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ یہی کلید صارف کو اپنے اثاثوں میں تصرف کا اختیار دیتی ہے۔فقہی اصطلاح میں اگر اس کا تجزیہ کیا جائے تو پرائیویٹ کی حقِ تصرف کی نمائندہ ہے، ثبوتِ ملکیت نہیں۔

اس فرق کو سمجھنا نہایت ضروری ہے، کیونکہ کسی شخص کے پاس پرائیویٹ کی موجود ہونے سے لازماً یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ اس اثاثے کا حقیقی مالک بھی ہے۔ ممکن ہے یہ کلید اسے بطور امانت دی گئی ہو، کسی نے تحفے میں دی ہو یا ناجائز طریقے سے حاصل کی گئی ہو۔ لہٰذا پرائیویٹ کی تصرف کا ذریعہ ہے، ملکیت کی دلیل نہیں۔

اگر پرائیویٹ کی ضائع ہو جائے تو کیا ہوتا ہے؟:
اگر کسی صارف کی پرائیویٹ کی ضائع ہو جائے تو بٹ کوائن ختم نہیں ہوتے، بلکہ ان تک رسائی ختم ہو جاتی ہے۔

بلاک چین پر وہ اثاثے ہمیشہ موجود رہتے ہیں، لیکن چونکہ ان تک رسائی کا واحد ذریعہ پرائیویٹ کی ہے، اس لیے اس کے ضائع ہونے کے بعد عملی طور پر وہ اثاثے ناقابلِ استعمال ہو جاتے ہیں۔ یہی کرپٹو کرنسی کے نمایاں خطرات میں سے ایک ہے۔

بلاک چین میں اعتماد کس بنیاد پر قائم ہے؟:
روایتی مالیاتی نظام میں اعتماد بینکوں، حکومتوں اور مالیاتی اداروں پر قائم ہوتا ہے، جبکہ بلاک چین میں اعتماد ریاضیاتی اصولوں، کرپٹوگرافی اور کمپیوٹر الگورتھمز پر قائم ہوتا ہے۔

اس نظام میں کسی ایک ادارے یا فرد کو مکمل اختیار حاصل نہیں ہوتا، بلکہ دنیا بھر میں موجود ہزاروں نوڈز ایک دوسرے کی تصدیق کرتے ہیں۔ یہی غیر مرکزی (Decentralized) ساخت بلاک چین کو منفرد بناتی ہے۔

کیا بلاک چین کا ریکارڈ تبدیل کیا جا سکتا ہے؟:
عملی اعتبار سے بلاک چین میں محفوظ شدہ ریکارڈ کو تبدیل کرنا یا حذف کرنا انتہائی مشکل بلکہ موجودہ ٹیکنالوجی کی روشنی میں تقریباً ناممکن سمجھا جاتا ہے۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر نئی ٹرانزیکشن ہزاروں نوڈز پر محفوظ ہوتی ہے اور ہر نیا بلاک اپنے سابقہ بلاک سے کرپٹوگرافی کے ذریعے منسلک ہوتا ہے۔ اس لیے کسی ایک جگہ تبدیلی پورے نظام کو تبدیل نہیں کر سکتی۔

بینک اکاؤنٹ اور بٹ کوائن میں بنیادی فرق:
اگرچہ بینک اکاؤنٹ اور بٹ کوائن دونوں میں صارف کو صرف نمبرز ہی نظر آتے ہیں، لیکن دونوں کی قانونی اور تکنیکی حقیقت مختلف ہے۔

بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم دراصل بینک کی ذمہ داری (Liability) ہوتی ہے، جبکہ صارف کا اس پر صرف دعویٰ (Claim) یا حقِ تصرف ہوتا ہے۔

اس کے برعکس بٹ کوائن میں صارف براہِ راست اپنے ڈیجیٹل اثاثے کا مالک ہوتا ہے اور کسی بینک یا مالیاتی ادارے کی ذمہ داری پر انحصار نہیں کرتا۔

اسی طرح ایزی پیسہ، جاز کیش اور روایتی بینکاری نظام مرکزی (Centralized) ڈیٹا بیس پر قائم ہیں، جبکہ بلاک چین غیر مرکزی (Decentralized) نظام پر مبنی ہے۔ یہی دونوں نظاموں کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

اسٹیبل کوائن، CBDC اور دیگر ڈیجیٹل اثاثے:
تمام کرپٹو اثاثوں کا شرعی یا قانونی حکم ایک جیسا نہیں ہو سکتا، کیونکہ ان کی حقیقت بھی ایک جیسی نہیں۔

بٹ کوائن، ایتھیریم، اسٹیبل کوائنز، سیکیورٹی ٹوکنز، یوٹیلیٹی ٹوکنز اور NFTs سب الگ الگ نوعیت رکھتے ہیں۔

مثلاً اسٹیبل کوائنز کے پیچھے عموماً حقیقی ریزروز یا اثاثے موجود ہوتے ہیں، اس لیے ان کی نوعیت بٹ کوائن سے مختلف ہے۔ اسی طرح سیکیورٹی ٹوکنز اگر کسی کمپنی کے شیئر یا مالی اثاثے کی نمائندگی کرتے ہوں تو ان کا حکم بھی اسی اثاثے کے تابع ہوگا۔

جدید مسائل میں فقہاء کرام کا طریقۂ کار:
بلاک چین، مصنوعی ذہانت، کمپیوٹر سائنس، مالیات اور سائبر سیکیورٹی جیسے جدید موضوعات پر فقہی رائے قائم کرنے سے پہلے متعلقہ شعبوں کے ماہرین سے تفصیلی مشاورت کی جاتی ہے۔

یہ ماہرین مسئلے کی فنی حقیقت، اس کی عملی صورت، ممکنہ خطرات اور تکنیکی تفصیلات واضح کرتے ہیں۔ ان معلومات کی بنیاد پر فقہاء سوال مرتب کرتے ہیں اور پھر شرعی اصولوں کے مطابق حکم اخذ کرتے ہیں۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ماہرینِ فن فتویٰ نہیں دیتے بلکہ صرف مسئلے کی تکنیکی حقیقت بیان کرتے ہیں، جبکہ شرعی حکم دینا فقہاء اور مفتیانِ کرام کی ذمہ داری ہوتی ہے۔

اگر حکومت بلاک چین کو اختیار کرے:
اگر کوئی ریاست بلاک چین پر مبنی مالیاتی نظام اختیار کرنا چاہے تو صرف ٹیکنالوجی کافی نہیں ہوگی، بلکہ اس کے لیے جامع قانونی، انتظامی اور شرعی فریم ورک کی ضرورت ہوگی۔

ریگولیٹری ادارے، معاشی ماہرین، بلاک چین انجینئرز، سائبر سیکیورٹی ماہرین اور فقہاء کرام پر مشتمل مشترکہ کمیٹی کو ایسے ضوابط مرتب کرنے ہوں گے جو عوام کے حقوق کا تحفظ کریں، مالیاتی خطرات کو کم کریں اور نظام کو شریعت سے ہم آہنگ بنائیں۔

اگر حکومت اپنی اسٹیبل کوائن جاری کرے تو ضروری ہوگا کہ اس کی مکمل ضمانت بھی حکومت ہی قبول کرے، بالکل اسی طرح جیسے موجودہ کاغذی کرنسی ریاست کی ذمہ داری کے تحت جاری کی جاتی ہے۔ مزید یہ کہ صرف ڈیجیٹل ذرائع پر انحصار نہ کیا جائے بلکہ ایسے متبادل ذرائع بھی موجود ہوں جنہیں بجلی یا انٹرنیٹ کی عدم دستیابی کی صورت میں استعمال کیا جا سکے، تاکہ مالیاتی نظام ہر حال میں فعال اور قابلِ اعتماد رہے۔

کالم نگار : مفتی محمد نعیم خان
| | |
17