جو لوگ علماء کے کرپٹو کے فرضی وجود والے مؤقف کا مذاق اڑاتے ہیں وہ مشہور اکیڈمک جرنل کی یہ تازہ ترین تحقیق پڑھیں Speculating in zero-value assets: The Greater Fool Game Experiment سائنسدانوں نے تجربہ گاہ میں ثابت کیا ہے کہ کرپٹو جیسے اثاثے Zero-Value Assets (صفر معاشی قدر والے اثاثے) ہیں جن کا اپنا کوئی حقیقی وجود یا مادی افادیت نہیں ہوتی۔ لوگ انہیں صرف اس لالچ میں خریدتے ہیں کہ مستقبل میں کوئی دوسرا بڑا بیوقوف (Greater Fool) ان سے وہ چیز مزید مہنگی قیمت پر خرید لے گا۔ شریعت کی زبان میں اسی طرز عمل کو جوا اور غررِ فاحش کہا جاتا ہے۔
ریسرچ کا لنک یہ ہے:
https://www.sciencedirect.com/science/article/pii/S0014292125002302
مشہور ماہر معاشیات ایسور پرساد نے واشنگٹن کے معروف تھنک ٹینک پر شائع ہونے والے اپنے مقالے The Brutal Truth about Bitcoin میں ثابت کیا ہے کہ بٹ کوائن بطور کرنسی اپنے بنیادی مقصد میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے کیونکہ یہ بہت سست مہنگا اور شدید غیر مستحکم ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بٹ کوائن محض ایک سٹہ بازی والا بلبلہ (Speculative Bubble) ہے جو عام سرمایہ کاروں کو برباد کر رہا ہے البتہ اس کے پیچھے موجود بلاک چین ٹیکنالوجی مفید ہے جو مستقبل میں مرکزی بینکوں کی قانونی ڈیجیٹل کرنسیوں (CBDCs) کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے۔
https://www.brookings.edu/articles/the-brutal-truth-about-bitcoin/
پروفیسر ایریک بڈش نے یونیورسٹی کے آفیشل پورٹل پر موجود اپنے اکیڈمک پیپر Trust at Scale: The Economic Limits of Cryptocurrencies and Blockchains میں ثابت کیا ہے کہ حکومت اور قانون کے بغیر چلنے والا یہ گمنام بلاک چین نظام معاشی طور پر شدید ترین حدود کا شکار ہے اس گمنام نظام میں بھروسہ قائم رکھنے کی لاگت اتنی زیادہ ہے کہ یہ نظام صرف بلیک مارکیٹ کے لیے تو شاید ٹھیک ہو، لیکن روایتی قانونی نظام کا متبادل کبھی نہیں بن سکتا ۔
دنیا کے چوٹی کے مالیاتی جرنلز اور ہارورڈ و شکاگو جیسے اداروں کی تحقیقات بعینہ وہی معاشی نقصانات فرضی وجود اور سٹا بازی بیان کر رہی ہیں جن کی بنیاد پر ہمارے علمائے کرام جیسے مفتی محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم العالیہ اور انڈونیشیا کی علماء کونسل نے اس کے عدم جواز کا فتویٰ دیا ہے۔