کسی بھی فرد جماعت ادارے یا تحریک کی زندگی میں چالیس کا عدد ایک خاص معنویت اور اہمیت رکھتا ہے چالیس سال کے بعد جب انسان کے مزاج پر شور کی جگہ شعور اشتعال کی جگہ اعتدال آ جاتا ہے حرکت کے ساتھ باوقار جمود اور گفتگو میں متانت در آتی ہے تب اس فرد یا تحریک کے اصل خدو خال سامنے آتے ہیں نفع نقصان کا گوشوارہ مرتب ہوتا ہے اس کے افادیت اور مضرت پر غور وفکر کیا جاتا ہے ۔
ایسے ہی فتنہ کادیانیت کی بیخ کنی کیلئے اور امت کی وحدت سے کٹ کر دور جاگرنے والے اس کلٹ کو دعوت اسلام دے کر واپس لانے کی تحریک تقریبا اس کادیانی کلٹ کے یوم تاسیس سے جاری ہے پاکستان کے ٹھوس مذھبی پس منظر اور یہاں کے اہل اسلام باشندوں کی اپنی پیغمبر سے غیر متزلزل وفا نے فتنہ کادیانیت کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ یہاں ہماری دال نھیں گلنے والی کیوں نہ یورپ کی فکری آوارہ مگر فتنوں کیلئے زرخیز ذھنی زمین میں اس تخم بد کی آبیاری کی جائے لہذا پاکستان میں اپنی مکروہ خدمات اور کفریات کیلئے سند کفر لینے کے بعد 1973 میں باضابطہ ان فرنگی راتب خوروں نے یورپ کو اپنی جائے مادر سمجھ کر دھرا دھڑ ادھر راہ فرار اختیار کی اور یہ مفرورین جہاں کہیں بھی گئے ساتھ مرز اغلام۔کادیانی کے تیار کردہ بدبودار دین کا مردہ جنازہ بھی کندھوں پر اٹھا لے گئے لیکن اللہ کی رحمت ہو ان نفوس قدسیہ پر جنہوں نے اپنی زمہ داری سے رائی کے دانے برابر غفلت نھیں کہ اور کادیانیت کے بہتر مستقبل جس میں ان کے سینے میں ایمان اتر جائے اور کفر کے بادل چھٹ جائیں کی امید لیے ہمارے اسلاف ان کے پیچھے پیچھے دنیا کے ہر اس کونے میں پہنچے جہاں جہاں یہ لوگ اپنی قبیح تبلیغ لیکر گئے بنام اسلام جب کفر کا تعارف لیے یہ یورپ میں گشت کررہے تھے تب محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے باوقار متدین باصفاء اولیاء بھی نور توحید کی ضیاء پاشیوں سے اس ظلمت شب کو تنویر سحر سے متعارف کروا رہے تھے حضرت مولنا یوسف لدھیانوی شہید سے لیکر خواجہ خواجگان حضرت خواجہ خان محمد صاحب رحمہ اللہ تک کتنے ہی جید بزرگ تھے جنہوں نے اس یورپ کی چکاچوند سے متاثر ہوئے بغیر اپنی شب کی آہوں سے کفر کی بانہوں میں پھنسے کادیانیوں کو اسلام کے جام زنجبیل و سلسبیل سے سیراب کیا ۔
یہ تحریک چلتے چلتے چالیس کا عدد کراس کر گئ اور قرآن پاک کے اس اسلوب کی طرف اشارہ دینے لگی :
حَتَّىٰۤ إِذَا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَبَلَغَ أَرۡبَعِینَ سَنَةࣰ
کہ انسان ہو یا تحریک اس کی جوانی کا آغاز چالیس کے بعد ہی ہوتا ہے جب اس کی فکر رسا ہو زبان شائستہ ہو اور مقصد اجلی واعلیٰ ہو ۔
امسال برمنگھم میں 41 ویں سالانہ کانفرنس ہو رہی ہے جس کی شبانہ روز محنت کرنے والی برادر مکرم بلال راٹھور صاحب مولنا مفتی محمود الحسن صاحب جیسے احباب کے ساتھ دو ایسی شخصیات ہیں جن کی عمر کسی بھی خانقاہ میں بیٹھ کر باقی زندگی داد عیش دینے کی ہے اور وہ ایک معروف خانقاہ اور بہت بڑا حلقہ احباب رکھتے ہیں گوشہء نشینی سے بقیہ زندگی ریشم و حریر کے بستر پر بآسانی کٹ سکتی ہے مگر کوثر کے پیاسوں کو زمین پر کہاں آرام آتا ہے ان کی زندگی ایک مشن اور لگن کی آئینہ دار ہوتی ہے جوانوں کی جوانی کی سانسیں جس صحراء میں آبلہ پائی کرتے پھول جائیں یہ دیوانے وہاں سے مسکراتے ہوئے گزر جاتے ہیں پیری مریدی کے چکروں کی بجائے حضرت بابا جی خان محمد صاحب رحمہ اللہ سے وراثت میں ملنے والا مشن اور فکر لیکر یہ دن رات ایک کیے ہوئے اس برمنگھم کی کانفرنس کیلئے ہمہ وقت پابہ رکاب ہیں دل میں ایک درد ہے کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دامن رحمت سے کٹنے والے انجان لوگ اپنے غلط فیصلے کا انجام جان جائیں اور واپس ملت کا حصہ بن جائیں اور ان کی نظریں گنبد خضریٰ پر ٹکی ہیں کہ آقاء صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت و منصب کی خدمت میں کوئ کوتاہی نہ رہ جائے یورپ کے سب مسلمانوں کو ان حضرات کے اپنے ملک میں موجود ہونے کی قدر کرنی چاہیے کل کلاں جب مشیت کا قانون حرکت میں آیا اور یہ درویش صفت بزرگ مالک کی رحمت میں چل دیے تو کئی صدیوں تک کا اندھیرا آئندہ نسلوں کو جھلینا پڑے گا جب پیر تو ہر گام پر ملیں گے مگر ان کے پاس دردوں کا بام نہ ہوگا جو اپنی خانقاہوں کے فضائل اور اپنی کرامات تو سنائیں گے مگر رسول اللہ کی ناموس اور ختم نبوت کیلئے ان کے دل میں یہ آگ نھیں ہوگی جو خرمن کفر کو جلا سکے ۔
حضرت لالہ جی عزیز احمد صاحب اور خواجہ خلیل احمد صاحب مدظلہم العالی اس وقت صفت صدیقی کا پرتو لیے دیوانہ وار پیغام ختم نبوت کو عام کررہے ہیں سوشل میڈیا پر ان کی فعال زندگی جوانوں کیلئے باعث رشک ہے ہم نے ماضی کے ان مجاہدوں کو نھیں دیکھا جن کے نام ہی صرف پڑھ رکھے ہیں مگر ان دو بیماریوں کے ستم رسیدہ ہارٹ پیشنٹ بزرگوں کی جولانیون نے آئندہ نسلوں کے ایمان کی حفاظت کا بہت سا سامان کردیا ہے ۔
اللہ ہمیں کبھی بھی ایسے مخلص درویشوں اور خدام ختم نبوت سے محروم نہ کرنا ۔لندن کانفرنس یا دنیا میں کہیں بھی کسی بھی حوالے سے ختم نبوت کیلئے محنت کرنے والوں کا اے اللہ تو معاون مددگار اور مولی بن جا ۔تجھ سے اچھا نہ کوئ دوست ہے نہ کارساز !