ہمیں یہ حقیقت ہمیشہ پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ ہم ابھی بھی مختلف نوعیت کے داخلی اور خارجی چیلنجز سے دوچار ہیں، اگرچہ جنگ کی نوعیت بدل چکی ہے، لیکن خطرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے، ہمارے گرد و پیش کے حالات، خطے میں جاری کشیدگی، نفسیاتی جنگ، میڈیا پروپیگنڈا، سائبر حملے اور فکری یلغار اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ قوم مسلسل بیدار، متحد اور باخبر رہے۔
اگر سیرتِ نبوی ﷺ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ غزوہ بدر (2ھ) کے بعد مکہ کے مشرکین نے مسلمانوں کے خلاف اپنی کوششیں ترک نہیں کیں، بلکہ غزوہ احد (3ھ) اور پھر غزوہ احزاب (5ھ) تک مسلسل مختلف محاذوں پر مسلمانوں کو نشانہ بنایا، اسی دوران داخلی سطح پر منافقین کی سرگرمیاں اور بعض یہودی قبائل کی عہد شکنی نے بھی اسلامی ریاست کے لئے سنگین مسائل پیدا کئے، بنو قینقاع (3ھ) بنو نضیر (4ھ) اور بنو قریظہ (5ھ) کے غزوات اسی سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں، جہاں داخلی عناصر نے بیرونی دشمنوں کے ساتھ مفادات کا اشتراک کرکے مدینہ منورہ کی ریاست کو کمزور کرنے کی کوشش کی۔
صلح حدیبیہ (6ھ) کے بعد بھی حالات مکمل طور پر موافق نہیں ہوئے، بلکہ غزوہ خیبر (7ھ) کا پیش آنا، پھر مختلف سیاسی سرگرمیوں کا چلنا جاری رہا، بالآخر فتح مکہ (8ھ) تک مسلسل حکمتِ عملی، دفاعی تیاری اور نبوی بصیرت سے فیصلے ہوتے رہے، کتبِ سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین اور بعض یہودی قبائل مختلف مواقع پر ایک دوسرے کے معاون اور حلیف بنتے رہے۔
رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خصوصی اعزاز بھی عطا فرمایا گیا تھا کہ: «نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ مَسِيرَةَ شَهْرٍ»، یعنی "مجھے ایک ماہ کی مسافت تک رعب کے ذریعے نصرت عطا کی گئی۔" اس عظیم تائیدِ الٰہی کے باوجود آپ ﷺ نے کبھی ظاہری اسباب کو ترک نہیں فرمایا، بلکہ دفاعی تیاری، معلومات کا نظام، مناسب منصوبہ بندی، مشاورت، نگرانی اور ہر ممکن احتیاط کو اختیار فرمایا، یہی سیرتِ نبوی ﷺ کا وہ عملی سبق ہے جو ہر دور کی امت کے لئے مشعلِ راہ ہے۔
آج کے دور میں اگرچہ جنگ کی صورتیں تبدیل ہوچکی ہیں، لیکن خطرات اپنی جگہ موجود ہیں، عسکری محاذ کے ساتھ ساتھ فکری، ثقافتی، معاشی، ابلاغی اور سائبر جنگ بھی ایک حقیقت ہے، ایسے حالات میں میڈیا، اہلِ علم، دانشوروں، اساتذہ اور تمام ذمہ دار طبقات کی یہ مشترکہ ذمہ داری ہے کہ وہ قوم میں شعور، بصیرت، اتحاد، ذمہ داری اور حقیقت پسندانہ سوچ کو فروغ دیں، تاکہ ہر شہری اپنے دین، اپنے وطن، اپنی قوم اور اپنی اخلاقی اقدار کے تحفظ میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کرسکے۔