(+92) 319 4080233
کالم نگار

عمران لیاقت

عمران لیاقت

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
اتنی نیند پھربھی اتنی تھکاوٹ،کیوں؟
"بھائی! میں آٹھ، نو بلکہ دس گھنٹے بھی سو لوں، پھر بھی صبح اٹھ کر ایسا لگتا ہے جیسے ساری رات آرام ہی نہیں کیا۔ سارا دن جسم میں جان نہیں ہوتی، ہر وقت تھکن اور Low Energy محسوس ہوتی ہے۔" یہ اکثر نوجوانوں کی شکایت ہے۔

جب میں نے ان سے تفصیل سے بات کی تو ایک حیران کن بات سامنے آئی۔ تقریباً سب کی ایک ہی عادت تھی ۔۔۔ جسم تو رات کو بستر پر چلا جاتا تھا، لیکن دماغ ابھی بھی دن بھر کے مسائل، پریشانیوں، مستقبل کے خوف، ماضی کی غلطیوں اور فضول Overthinking میں مصروف رہتا تھا۔ یہی وہ غلطی ہے جو ہم میں سے اکثر لوگ کرتے ہیں۔ ہم رات کو سونے نہیں جاتے، بلکہ اپنی پریشانیاں ساتھ لے کر بستر پر چلے جاتے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ رات کا وقت مسائل حل کرنے کا وقت نہیں ہوتا۔ اگر کوئی مسئلہ پورا دن حل نہیں ہو سکا تو یقین مانیں، وہ رات کے گیارہ یا بارہ بجے بھی حل نہیں ہوگا۔ لیکن اس کے بارے میں مسلسل سوچ کر آپ اپنے دماغ کو ضرور تھکا دیں گے۔

میں نے خود بھی ایک چھوٹی سی روٹین اپنائی اور یہی روٹین میں اپنے NoFap بھائیوں کو بھی مشورہ دیتا ہوں۔ سونے سے پہلے اپنے دماغ کو مسائل نہیں، بلکہ سکون دیں۔ دن بھر کی اچھی چیزوں کو یاد کریں۔

یہاں ہمیں انسانی نفسیات اور NLP (نیورو لنگوئسٹک پروگرامنگ) کے ایک بنیادی اصول کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ آنکھیں بند کر کے سونے سے ہمارا دماغ بھی سو جاتا ہے۔ حقیقت میں ایسا نہیں ہے! ہمارا جسم اور شعور (Conscious mind) تو سو جاتا ہے، لیکن ہمارا لاشعوری دماغ (Subconscious Mind) پوری رات جاگتا رہتا ہے اور اسی معلومات پر کام کرتا ہے جو ہم نے اسے سونے سے عین پہلے دی ہوتی ہیں۔

اس کی مثال بالکل ایسے ہے جیسے آپ اپنے موبائل میں 20، 50 ایپس (Applications) کھول کر چھوڑ دیں۔ آپ موبائل کی سکرین تو لاک کر دیتے ہیں، لیکن چونکہ وہ ایپس پراپرلی شٹ ڈاؤن (shutdown) نہیں ہوتیں، اس لیے وہ بیک گراؤنڈ میں چلتی رہتی ہیں اور صبح تک آپ کے موبائل کی بیٹری ختم کر دیتی ہیں۔ رات کو منفی باتیں سوچنا، پریشانیوں کو یاد کرنا اور اوور تھنکنگ (overthinking) کرنا بالکل بیک گراؤنڈ میں چلنے والی ان ایپس کی طرح ہے جو رات بھر آپ کی ذہنی اور جسمانی انرجی کو نچوڑ لیتی ہیں۔

میں نے خود اس مسئلے کو سمجھنے کے بعد اپنی زندگی میں ایک روٹین اپنائی ہے، جس نے میرے صبح اٹھنے کے انداز کو مکمل طور پر بدل دیا ہے۔ اگر آپ بھی صبح فریش اور انرجیٹک اٹھنا چاہتے ہیں، تو آج سے ہی ان باتوں پر عمل شروع کر دیں:

1. بستر مسائل حل کرنے کی جگہ نہیں ہے:
یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ رات کا وقت اور آپ کا بستر دنیا کے مسائل حل کرنے کے لیے نہیں ہے۔ آپ کی زندگی میں جو بھی مسئلہ چل رہا ہے، وہ رات کے اس پہر بستر پر لیٹ کر حل نہیں ہو سکتا۔ بستر پر جاتے ہی اپنے دماغ کو یہ کمانڈ دیں کہ "اب میں صرف آرام کروں گا"۔ کوئی بھی منفی سوچ بستر پر اپنے ساتھ لے کر نہ جائیں۔

2. لاشعور کی مثبت پروگرامنگ (Subconscious Programming):
سونے سے فوراً پہلے اور صبح جاگنے کے فوراً بعد کا وقت آپ کے لاشعوری دماغ کے لیے سب سے اہم ہوتا ہے۔ اس وقت آپ کا دماغ ہر بات کو فوراً قبول (collect) کر لیتا ہے۔ رات کو سوتے وقت صرف اور صرف مثبت سوچیں۔ اپنے آپ کو بتائیں کہ "میرا آج کا دن بہت زبردست گزرا اور میں نے بہت کچھ اچیو کیا"۔

اگر آپ کو دن بھر کی کوئی مثبت بات یاد نہ بھی آ رہی ہو، تو بھی کم از کم تین چیزوں کا شکر تو لازمی ادا کریں:

اللہ نے آج مجھے پیٹ بھر کر کھانا دیا۔

پینے کے لیے صاف پانی دیا۔

میرے ہاتھ پاؤں اور جسم سلامت ہے۔

دن بھر کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو یاد کریں جیسے آپ نے ایک اچھی کافی انجوائے کی، کسی دوست کے ساتھ اچھی گپ شپ رہی، آپ کی بیوی نے مسکرا کر آپ کی طرف دیکھا، یا آپ کی والدہ نے آپ کے لیے مزیدار پراٹھا بنایا۔ اتنی چھوٹی باتوں کو بھی رات کے اس پہر سوچیں اور شکر ادا کریں۔ یہ شکر گزاری آپ کے دماغ کو پرسکون کر دے گی۔

3. ڈیجیٹل ڈیٹاکس (Digital Detox):
سونے سے کم از کم ایک گھنٹہ پہلے اپنے انٹرنیٹ اور وائی فائی کو آف کر دیں۔ کوئی سوشل میڈیا نہیں، کوئی سرفنگ نہیں اور کوئی شور شرابہ نہیں۔ اسی طرح، جب صبح آنکھ کھلے تو پہلا ایک گھنٹہ انٹرنیٹ اور موبائل کو ہرگز ہاتھ نہ لگائیں۔

4. صبح کی مثبت شروعات (Morning Affirmations):
صبح اٹھتے ہی جو سب سے پہلی بات آپ نے اپنے آپ سے کہنی ہے (یعنی self-talk)، وہ یہ ہونی چاہیے:

"آج اللہ تعالیٰ نے مجھے زندگی کا ایک نیا اور بہترین دن عطا کیا ہے، اور میں اسے شاندار انداز میں گزارنے کے لیے اپنے بستر سے اٹھ رہا ہوں۔ میری زندگی بہترین ہے اور اللہ نے مجھے بہت نوازا ہے۔"

جب سے میں نے خود یہ روٹین اپنائی ہے، میری صبح کی تھکن غائب ہو گئی ہے اور میں بالکل فریش اٹھتا ہوں۔ جو بھی بھائی دن بھر تھکن اور سستی محسوس کرتا ہے، وہ آج ہی سے اپنی رات کی روٹین کو تبدیل کرے۔ اپنے لاشعور کو منفی اوور تھنکنگ کا کچرا دینے کے بجائے مثبت سوچ اور شکر گزاری کی خوراک دیں۔اپنا بہت خیال رکھیں اور آج رات سے ہی اس پریکٹس کا آغاز کریں ۔۔۔ !

کالم نگار : عمران لیاقت
| | |
34