(+92) 319 4080233
کالم نگار

ضیاء چترالی

ضیاء چترالی

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
ڈاکٹر زغلول اور برٹش لڑکی
قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:وَأَخَوَاتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ(سورۃ النساء: 23)

ترجمہ: "اور تمہاری رضاعی بہنیں (بھی تم پر حرام ہیں کہ ان سے نکاح نہیں کرسکتے)۔"

یہ مختصر سی آیت اپنے اندر ایک عظیم شرعی اصول سموئے ہوئے ہے۔ صدیوں سے مسلمان اس حکم پر عمل کرتے آرہے ہیں، حالانکہ اس زمانے میں نہ جدید لیبارٹریاں تھیں، نہ جینیاتی تحقیق (Genetics)، نہ خلیات (Cells) اور نہ ہی حیاتیاتی سالمات (Molecules) کا علم۔ اس کے باوجود اسلام نے رضاعت (Breastfeeding) کو محض بچے کی غذا نہیں، بلکہ ایک ایسا مضبوط رشتہ قرار دیا جس کے قانونی اور خاندانی اثرات بھی ہیں۔

مشہور اسلامی مفکر، ماہر ارضیات اور قرآن و سائنس کے محقق ڈاکٹر زغلول النجار جن کا گزشتہ برس انتقال ہوا، اس موضوع پر ایک دلچسپ واقعہ بیان کرتے ہیں۔ ڈاکٹر زغلول النجار مصر کے ممتاز سائنس دان، مصنف اور قرآنِ کریم میں سائنسی اشارات و معجزات پر تحقیق کرنے والی معروف شخصیت تھے۔ انہوں نے کئی دہائیوں تک قرآن اور جدید سائنس کے تعلق پر دنیا بھر میں لیکچر دیئے اور 58 کتابیں تصنیف کیں۔ وہ برطانیہ کی ویلز یونیورسٹی کے پی ایچ ڈی تھے۔

ڈاکٹر صاحب کا کہنا تھا کہ برطانیہ میں ایک مقامی انگریز لڑکی (جس نے اسلام قبول کیا تھا) نے مجھے بتایا کہ وہ رضاعی بہن بھائیوں کے درمیان نکاح کی حرمت پر حیران تھی۔ وہ سوچتی تھی کہ جب ان دو بچوں کے درمیان نہ خون کا رشتہ ہے اور نہ نسب کا، تو پھر صرف ایک ہی عورت کا دودھ پینے کی وجہ سے ان کا آپس میں نکاح کیوں حرام قرار دیا گیا؟

بعد میں جب اس نے جدید سائنسی تحقیقات کا مطالعہ کیا تو اسے معلوم ہوا کہ ماں کا دودھ صرف غذا نہیں، بلکہ ایک انتہائی پیچیدہ حیاتیاتی نظام (Biological System) ہے۔ اس میں غذائیت کے ساتھ ساتھ مدافعتی خلیات (Immune Cells)، مختلف حیاتیاتی اجزا اور MicroRNA جیسے سالمات بھی موجود ہوتے ہیں، جو بچے کی نشوونما، مدافعتی نظام اور جسمانی ارتقا میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ بعض تحقیقات میں Microchimerism جیسے مظاہر کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن کے مطابق ماں کے بعض خلیات طویل عرصے تک بچے کے جسم میں باقی رہ سکتے ہیں۔

البتہ یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ موجودہ سائنسی تحقیقات رضاعت کی حرمت کی قطعی یا آخری سائنسی توجیہ پیش نہیں کرتیں۔ یہ موضوع ابھی تحقیق کے مراحل میں ہے، اس لیے ان نتائج کو اسلامی حکم کی حتمی علت قرار دینا درست نہیں۔ مسلمان کے نزدیک حلت و حرمت کا تعلق کسی سائنسی بنیاد سے نہیں، بلکہ اللہ و رسولؐ کے حکم سے ہے۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ یہ تحقیقات انسان کو اس حکمت پر غور کرنے کی دعوت دیتی ہیں کہ اسلام نے چودہ سو سال پہلے رضاعت کو ایک ایسا معتبر رشتہ قرار دیا جس کے قانونی اور اخلاقی اثرات بھی ہیں۔

اسی لیے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:يَحْرُمُ مِنَ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنَ النَّسَبِ(صحیح بخاری، صحیح مسلم)

ترجمہ: "رضاعت سے بھی وہی رشتے حرام ہوجاتے ہیں جو نسب (خونی رشتے) کی وجہ سے حرام ہوتے ہیں۔"

قرآنِ کریم میں ایک اور مقام پر اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:﴿سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ﴾(سورۃ فصلت: 53)

ترجمہ: "عنقریب ہم انہیں (غیر مسلموں کو) اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور خود ان کے اپنے وجود میں بھی، یہاں تک کہ ان پر واضح ہوجائے گا کہ یہی (قرآن) حق ہے۔"

اہلِ ایمان کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہر حکم پر یقین کا دارومدار سائنسی دریافتوں پر نہیں ہوتا۔ مسلمان اس لیے اللہ کے احکام پر عمل کرتا ہے کہ وہ اپنے رب کو حکیم اور علیم مانتا ہے۔ البتہ جب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سائنس کسی حکم کی ممکنہ حکمت کی طرف اشارہ کرتی ہے تو ایمان مزید تازگی اور اطمینان حاصل کرتا ہے۔

واقعی، اسلام نے رضاعت کو صرف بھوک مٹانے کا ذریعہ نہیں، بلکہ ایک ایسا مقدس رشتہ قرار دیا ہے جو خاندان، معاشرے اور نسلوں کی پاکیزگی سے جڑا ہوا ہے۔ یہ شریعت کی اسی جامع حکمت کا مظہر ہے، جس کی گہرائیوں تک انسان کا علم بتدریج پہنچتا رہتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر زمانے اور ہر حقیقت پر محیط ہے۔

کالم نگار : ضیاء چترالی
| | |
22