﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ﴾(سورۃ الحشر: 9)
ترجمہ:"اور وہ دوسروں کو اپنی ذات پر ترجیح دیتے ہیں، اگرچہ خود انہیں شدید حاجت ہی کیوں نہ ہو۔"
قرآنِ مجید نے جن اوصاف کو اہلِ ایمان کی امتیازی خصوصیات قرار دیا ہے، ان میں **ایثار** کو ایک غیر معمولی مقام حاصل ہے۔ سورۂ حشر کی اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انصارِ مدینہ کی اس عظیم صفت کو بیان فرمایا ہے جو اسلامی معاشرت کی اساس اور ایمانی کردار کی معراج ہے۔ یہ آیت محض ایک تاریخی واقعے کا تذکرہ نہیں بلکہ ہر دور کے مسلمانوں کے لیے ایک دائمی اخلاقی اور سماجی اصول کی حیثیت رکھتی ہے۔
لفظ "یُؤْثِرُونَ" عربی مادہ "أیثار"سے مشتق ہے، جس کا مفہوم اپنی ضرورت اور حق پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دینا ہے۔ اسی طرح خَصَاصَةٌ" سے مراد شدید احتیاج، تنگ دستی اور ایسی ضرورت ہے جس میں انسان خود بھی محتاج ہو۔ اس اعتبار سے آیت یہ تعلیم دیتی ہے کہ حقیقی ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنی ضرورت کے باوجود دوسروں کے مفاد کو مقدم رکھے۔ یہی ایثار ہے، اور یہی ایمان کے اخلاقی حسن کی بلند ترین علامت ہے۔
انصارِ صحابہ کرامؓ: ایثار کا عملی نمونہ
ہجرتِ مدینہ کے بعد مہاجرین اپنا گھر بار، جائیداد اور معاشی وسائل چھوڑ کر مدینہ منورہ پہنچے۔ انصارِ کرام رضی اللہ عنہم نے نہ صرف ان کے لیے اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے بلکہ اپنے باغات، کاروبار اور معاشی وسائل میں بھی انہیں شریک کیا۔ اس بے مثال طرزِ عمل نے اسلامی اخوت کو عملی شکل دی اور انسانی تاریخ میں بھائی چارے کی ایک نئی مثال قائم کی۔
مہمان نوازی کا تاریخی واقعہ:
ایثار کی عملی تصویر اس مشہور واقعے میں بھی نظر آتی ہے جس میں ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ ایک مہمان کو اپنے گھر لے گئے، حالانکہ گھر میں موجود کھانا صرف ایک فرد کے لیے کافی تھا۔ انہوں نے اپنی اہلیہ سے کہا کہ بچوں کو سلا دیا جائے، چراغ بجھا دیا جائے تاکہ مہمان کو احساسِ محرومی نہ ہو، اور تمام کھانا اس کے سامنے پیش کر دیا جائے۔ صحیح احادیث میں نبی کریم ﷺ نے اس ایثار کی تحسین فرمائی ہے، جبکہ مفسرین نے اس واقعے کو اس آیت کے نمایاں مصادیق بلکہ سببِ نزول میں شمار کیا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ایثار صرف ایک اخلاقی تصور نہیں بلکہ عملی زندگی کا روشن نمونہ ہے۔
علم میں ایثار:
اسلام میں ایثار صرف مال تک محدود نہیں بلکہ علم بھی اس کا اہم میدان ہے۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے علم، فہم اور بصیرت عطا فرمائی ہو، اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے امت کی رہنمائی اور اصلاح کے لیے استعمال کرے۔ وہ علم جو صرف ذاتی شہرت، منصب یا مفاد کا ذریعہ بن جائے، اپنی حقیقی روح کھو دیتا ہے، جبکہ دوسروں کی خیر خواہی کے لیے استعمال ہونے والا علم دائمی اجر اور صدقۂ جاریہ بن جاتا ہے۔
وقت اور صلاحیتوں کا ایثار:
موجودہ دور میں وقت سب سے قیمتی سرمایہ بن چکا ہے۔ ایسے حالات میں کسی طالبِ علم کی رہنمائی، کسی پریشان حال کی مدد، کسی نوآموز کی تربیت یا کسی گمراہ کی اصلاح کے لیے وقت نکالنا بھی ایثار کی اعلیٰ صورت ہے۔ اسی طرح اپنی صلاحیتوں اور تجربات کو معاشرے کی فلاح کے لیے بروئے کار لانا بھی اسی قرآنی تعلیم کا عملی اظہار ہے۔
رائے، منصب اور شہرت میں ایثار:
ایثار کا ایک اہم میدان علمی اور سماجی زندگی بھی ہے۔ حق بات کو قبول کرنا، خواہ وہ کسی کم عمر یا کم معروف شخص کی زبان سے ادا ہو، دوسروں کی علمی خدمات کا اعتراف کرنا، انہیں آگے بڑھنے کا موقع دینا اور کامیابی کا سہرا اپنے سر باندھنے کے بجائے دوسروں کو دینا، ایثار کی وہ شکلیں ہیں جو اداروں اور معاشروں میں اخلاص، اعتماد اور باہمی احترام کو فروغ دیتی ہیں۔
قربانی اور ایثار میں فرق:
قربانی اور ایثار اگرچہ ایک دوسرے سے متعلق ہیں، لیکن دونوں میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے۔ قربانی یہ ہے کہ انسان اپنے مال یا وسائل میں سے کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے خرچ کرے، جبکہ ایثار اس سے بلند تر درجہ ہے، کیونکہ اس میں انسان اپنی ذاتی ضرورت کے باوجود دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح دیتا ہے۔ اسی لیے قرآنِ مجید نے انصار کی تعریف ان کے ایثار کی بنا پر فرمائی، کیونکہ یہ ایمان، اخلاص اور اخلاقی عظمت کی اعلیٰ ترین علامت ہے۔
عصرِ حاضر میں ایثار کی ضرورت:
آج کا معاشرہ انفرادیت، مادہ پرستی اور ذاتی مفادات کے غلبے کا شکار ہے۔ ایسے ماحول میں ایثار کی قرآنی تعلیم پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ اگر افراد، خاندان، تعلیمی ادارے اور دینی مراکز اس وصف کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو معاشرے میں اعتماد، تعاون، محبت اور اخوت کی فضا دوبارہ قائم ہو سکتی ہے۔سورۂ حشر کی یہ مختصر آیت اسلامی تہذیب کے ایک بنیادی اخلاقی اصول کو بیان کرتی ہے۔ انصارِ کرام رضی اللہ عنہم نے اپنے کردار سے یہ ثابت کیا کہ مضبوط معاشرے دولت کی فراوانی سے نہیں بلکہ ایثار، اخلاص اور خیر خواہی سے تشکیل پاتے ہیں۔ جب انسان اپنے علم، وقت، صلاحیتوں اور وسائل کو دوسروں کی بھلائی کے لیے وقف کر دیتا ہے تو وہ درحقیقت قرآن کے اس عظیم وصف ﴿وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنْفُسِهِمْ﴾ کا عملی نمونہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ روح ہے جو افراد کی تعمیر کرتی ہے اور اقوام کو عروج عطا کرتی ہے۔
مضمون نگار جامعہ بنوریہ عالمیہ میں ایک سالہ تخصص، ابلاغ عامہ(ماس کمیونی کیشن) کے طالب علم ہیں۔