(+92) 319 4080233
کالم نگار

بریگیڈیئر(ر)ڈاکتربشیرآرائیں

بریگیڈیئر(ر)ڈاکتربشیرآرائیں

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
دل سے عزت اچھے انسان کی ہوتی ہےعہدے یا افسر کی نہیں
ایک شام میرے دیرینہ دوست نے فون کیا کہ اس کے آبائی شہر کھاریاں سے ایک بہت ہی دبنگ افسر نیب میں ڈپٹی ڈاٸریکٹر ہے اور اب تبادلہ ہوکر کراچی آیا ہے ۔ کھانے پر بلا رہا ہے آپ بھی چلیں گپ شپ رہے گی ۔ میں نے نہ چاہتے ہوئے بھی ہاں کر دی مگر ایک شرط پر کہ میرا تعارف برگیڈیئر بشیر آرائیں نہیں بلکہ ڈاکٹر بشیر آراٸیں کروانا (پاکستان میں ڈاکٹر بے شک 22 گریڈ میں میڈیسن کا پروفیسر ہو , 14 گریڈ کا پولیس والا بھی اس کے ساتھ بدتمیزی سے بات کرتا ہے) ۔

کینٹ اسٹیشن کے پاس اس افسر کے فلیٹ پر پہنچے ۔ دعا سلام کے بعد ہی خاموشی چھا گٸی ۔ وہ موٹا تازہ افسر اپنے موباٸل پر مصروف ہو گیا اور ہم دونوں چپ چاپ بیٹھ گٸے ۔ 5/7 منٹ یونہی گزرے تو میں نے میزبان کو مخاطب کرکے کہا کہ جناب اعلی آپ خاصے خاموش طبع لگتے ہیں ۔ ہمیں گھر بلاکر بھی کوئی حال احوال یا بات چیت نہیں کر رہے ۔ کہنے لگا ڈاکٹر صاحب بس عادت ہوگٸی ہے ۔ جب سے نیب میں آیا ہوں لوگوں سے کم ہی بات کرتا ہوں ۔ میں نے پوچھا ایسا کیوں ہے تو کہنے لگا کوٸی افسر آدمی عام لوگوں سے کیا بات کرے ۔ میں تو اپنے گاٶں جاکر بھی کسی سے زیادہ بات نہیں کرتا ـ گاٶں والے اور رشتہ دار فورا فری ہونے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر آپ کو افسر ہی نہیں سمجھتے ۔ میں نے اپنے دوست کی طرف حیرت سے دیکھا کہ وہ مجھے کس فلاسفر کے پاس لے آیا ہے ۔ میرے دوست نے آنکھ مار کر کہا سر ہمارے علاقے میں افسر گاٶں والوں اور رشتہ داروں کے ساتھ اسی طرح پیش آتے ہیں ۔ واقعی اس طرح افسر کا علاقے میں رعب داب رہتا ہے ۔

میں نے سوچا یار میں بھی تو 30 سال آافسر رہا ہوں ۔ مجھے یہ خیال کیوں نہ آیا ۔ میرا نوابشاہ اپنے گاؤں میں عرب داب کیوں نہ بنا بلکہ ہماری افسری پر تو والدین کا پہرہ لگا رہا ہمیشہ کہ ہم آپے سے باہر نہ ہو جاٸیں ۔ میں 1998 میں میجر تھا اور چھور کینٹ میں پوسٹنگ تھی ۔ اس وقت مردم شماری میں فوجیوں کی ڈیوٹی بھی لگی تھی ۔ میرپور خاص سانگھڑ اور نوابشاہ سے پہلے کھڈرو اور شاہ پور چاکر تک چکر لگتا تھا ۔ نوابشاہ صرف 15 کلومیٹر دور تھا مگر وہ حیدرآباد کے برگیڈ کی حدود میں تھا اس لئے وہاں جانا نہ ہوتا ـ۔

کور کمانڈر 5 کور جنرل لہراسب خان کا حکم صادر ہوا کہ ہر میڈیکل بٹالین اپنے اپنے علاقے میں گاٶں گاٶں فری میڈیکل کیمپ لگائے تاکہ فوج کی موجودگی سے لوگوں کا کچھ فائدہ بھی ہو جائے ۔ ہم ہر صبح مردم شماری کرنے والے سولجرز کے ساتھ نکلتے اور کسی گاٶں میں کلینک لگا کر مریض دیکھتے اور شام کو بیس کیمپ واپس آجاتے ۔ میں گھر فون کرکے روز اپنی والدہ جنہیں ہم بی بی جی کہتے تھے بات کرتا تھاـ ایک دن کہنے لگیں پُتر دو دن بعد دوپہر کے وقت تیرے ماموں کی بیٹی کی شادی ہے تم بھی آکر شرکت کرلو اورشام کو واپس چلے جانا ۔

اس دن ہمارا میڈیکل کیمپ میرے کلاس فیلو میجر امجد عزیز کے گاٶں چک نمبر 5 سانگھڑ میں لگا ۔ میں کیمپ کا دورہ کرکے فوجی جیپ میں ہی اپنے اسٹاف کے ساتھ نوابشاہ نکل پڑا ۔ 40 منٹ کا راستہ تھا ۔ میرے ساتھ جیپ کا ڈراٸیور ایک نائب صوبیدار اور دو سولجر تھے ۔ گھر پہنچا تو بی بی جی بہت خوش ہوئیں پیار کیا دعاٸیں دیں مگر میاں جی نے دیکھتے ہی سختی سے کہا کہ میاں رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوں کی غمی خوشی میں محبت اور عاجزی سے شرکت کرتے ہیں ۔ جیپ یہیں کھڑی کرو ۔ اپنے اسٹاف کو اپنے گھر کی بیٹھک میں بٹھاٶ ۔ سب یہیں گھر میں کھانا کھاٸیں گے ۔ تم شلوار قمیض پہن کر شادی میں سادگی سے شرکت کرو ۔ اپنوں میں افسر بن کے نہیں آتے پُتر ۔ اچھے افسر کی پہچان یہ ہوتی ہے کہ کوٸی اپنا پرایا اس سے بات کرتے خود کو چھوٹا محسوس نہ کرے ۔ میں نے میاں جی کی اس نصیحت کو کرنل اور پھر برگیڈیر بن کر بھی پلے باندھے رکھا ۔ اپنے دوستوں یا رشتہ داروں کی خوشیوں میں دکھ سکھ میں ہمیشہ عاجزی سے شرکت کی ۔ کبھی کسی کو احساس بھی نہ ہونے دیا کہ فوج میں اب میں کس رینک پر ترقی پا چکا ہوں ۔

آج نیب کے اس دبنگ افسر کی باتیں سن کر بہت دل چاہا کہ اس سے پوچھوں کہ تیرے باپ نے تجھے کوٸی نصیحت کیوں نہیں کی؟ بتایا کیوں نہیں کہ یہ افسری آنی جانی چیز ہے ۔ لوگ دل سے عزت صرف اچھے انسان کی کرتے ہیں عہدے یا افسر کی نہیں ۔ ہم نے اکثر دیکھا ہے ایسے افسر ریٹاٸر ہوکر لوٹتے ہیں تو اپنے گاٶں واپس نہیں جاتے ـ کسی بڑے شہر میں تنہاٸی اور گمنامی کی زندگی گزارتے ہیں ۔ لوگ آج بھی اپنے ارد گرد یہ سب دیکھتے ہیں مگر آج کے باپ اپنے بچوں کچھ سمجھا نہیں رہے یا بچے سمجھ نہیں رہے ۔

ہمارا ڈنر بھی خاموشی سے زہر مار ہوا ۔ فارغ ہوتے ہی میں نے پھر خاموشی توڑی اور میزبان سے رخصتی کی اجازت چاہی ۔ اس نے ہمیں ڈاٸننگ ٹیبل سے ہی ہاتھ ملا کر خدا حافظ کہہ دیا ۔ میں نے چلتے وقت جان بوجھ کر اپنا وزیٹنگ کارڈ اسے تھما دیا تاکہ اسے بھی تو پتہ چلے کہ ہم بھی کبھی افسر رہے تھے ۔ اس نے میرے کارڈ پر نام کے ساتھ میرا رینک پڑھا تو حیرت سے مجھے دیکھا اور کچھ کہنا بھی چاہا مگر ہم فلیٹ کے دروازے سے باہر نکل رہے تھے اور وہ ڈائننگ ٹیبل کی دوسری طرف کھڑا رہ چکا تھا ۔ پتہ نہیں کار میں بیٹھ کر ہم دونوں دوست اب کیوں ہنس رہے تھے ۔ راستے میں نیب اور کھاریاں والوں کے لیے بہت ساری دعاٸیں بھی کیں اور گھر آکر سوچا کہ آج کے ڈنر والے اس دبنگ افسر کی یاد میں کچھ لکھنا تو چاہیے ۔

کالم نگار : بریگیڈیئر(ر)ڈاکتربشیرآرائیں
| | |
65