نواز شریف ایمیننس سکول کی شاندار عمارت، دلکش لان، چمکتا ہوا فرش اور ہر سہولت سے مزین کلاس رومز ،صرف اس ایک عمارت پر سرکاری خزانے سے بلا مبالغہ کروڑوں روپے لاگت آئی ہوگی اور شاید اس کا بجٹ اربوں میں منظور ہوا ہو۔ ہر کلاس روم میں 18 سے 20 طلبہ کے لیے مختص نشستیں ہیں اور اس تعداد سے زائد داخلے کی گنجائش نہیں رکھی گئی۔ کھڑکیاں، پنکھے، ایل ای ڈی اور دیگر تمام سہولیات موجود ہیں۔ یہاں داخلے کے لیے سخت ترین ٹیسٹ لیا جاتا ہے، جسے گورنمنٹ کا ادارہ منعقد کرتا ہے اور اس کی نگرانی کے لیے سرکاری سکولوں کے اساتذہ کی خدمات لی جاتی ہیں۔ ٹیسٹ میں ناکام ہونے والا بچہ یہاں داخلے کا اہل نہیں۔ تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ کسی ریاست کی اصل طاقت اس کے محلات، سڑکوں یا بلند و بالا عمارتوں میں نہیں، بلکہ اس کے سکولوں میں ہوتی ہے۔ اگر ایک ملک کے تعلیمی اداروں میں ہی طبقاتی تقسیم پیدا کر دی جائے تو پھر مساوات، انصاف اور ترقی محض نعرے بن کر رہ جاتے ہیں۔ آج پنجاب میں ایک عجیب صورتحال ہے۔ ایک طرف وہ عام سرکاری سکول ہیں جہاں سکول میں آنے والے ہر بچے کو داخلہ دینا لازمی ہے، کسی کو فیل کرنے کی اجازت نہیں، کوئی بچہ کتنا ہی کند ذہن ہو، اسے بھی داخلہ دینا ضروری ہے۔ یہاں تک کہ ذہنی طور پر معذور بچے (Special Children) آ جائیں تو انہیں بھی انکار ممکن نہیں۔ وہاں کسی سے والد کی تعلیم، گھر کی آمدنی یا پچھلی جماعت کے نمبر نہیں پوچھے جاتے۔ غریب، مزدور، یتیم اور تعلیمی لحاظ سے کمزور بچے بھی وہیں پڑھتے ہیں۔ بہت سے سکولوں میں ایک کلاس روم میں 70 سے 100 بچے ٹھنسے ہوئے ہوتے ہیں، جہاں سانس لینا بھی دشوار ہے۔ سرکاری استاد ان سب کو برابر سمجھ کر پڑھانے کی کوشش کرتا ہے۔ سرکاری سکولوں میں سہولیات کا فقدان ہے۔ بیشتر میں کمرے کم، سائنس لیب، لائبریری، واش روم، فرنیچر اور پینے کے صاف پانی تک کا انتظام نہیں۔
پنجاب کے سرکاری سکولوں میں تقریباً سوا لاکھ اساتذہ کی کمی ہے۔ اساتذہ کی بھرتیاں کرنے کے بجائے حکومت نے سکول آؤٹ سورس کر دیے۔ سرکاری اساتذہ کو پورا سال انتظامی ڈیوٹیوں میں الجھائے رکھا جاتا ہے۔ امتحانی نگرانی اور مختلف سروے کی ڈیوٹیوں میں سکول کا آدھا سٹاف مصروف رہتا ہے اور اگر کوئی استاد یہ ڈیوٹی کرنے سے گریز کرے تو اسے ڈیپارٹمنٹ کی انکوائریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ دوسری طرف ہر سہولت سے مزین نواز شریف ایمیننس سکولز قائم کیے جا رہے ہیں جہاں داخلہ صرف ٹیسٹ کی بنیاد پر ہے۔ پہلے سے ذہین طلبہ کو چن لیا جاتا ہے، پھر انہیں بہترین عمارتیں، جدید لیبارٹریاں اور اضافی فنڈز دیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد انہی اداروں کے نتائج کو عام سرکاری سکولوں کے ساتھ رکھ کر "کامیابی" کے دعوے کیے جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ منصفانہ مقابلہ ہے؟
اگر ایک ٹیم کو بہترین میدان، اعلیٰ کوچ اور جدید سہولیات دی جائیں، جبکہ دوسری ٹیم کو کمزور وسائل اور ناموافق حالات میں میدان میں اتارا جائے تو جیتنے والی ٹیم کی تعریف تو کی جا سکتی ہے، مگر اسے دوسری ٹیم کی ناکامی کا ثبوت قرار دینا سراسر ناانصافی ہے۔ سرکاری اساتذہ کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ بچہ نہیں چنتے۔ جو بچہ آ جائے، وہ اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ وہ کبھی کسی غریب یا کمزور طالب علم سے یہ نہیں کہتے کہ "تم ہمارے معیار پر پورا نہیں اترتے۔" یہی تو اصل تعلیم ہے کہ کمزور کو مضبوط بنایا جائے، نہ کہ پہلے سے مضبوط کو مزید وسائل فراہم کیے جائیں۔
افسوس اس بات کا ہے کہ وسائل کی تقسیم بھی غیر منصفانہ ہے۔ کہیں ایک طالب علم پر ہزاروں روپے خرچ کیے جا رہے ہیں جبکہ سرکاری سکول بنیادی ضروریات کے لیے ترس رہے ہیں۔ پھر انہی سکولوں سے وہی نتائج مانگے جاتے ہیں جو منتخب طلبہ والے اداروں سے حاصل ہوتے ہیں۔ اگر حکومت واقعی تعلیمی انقلاب چاہتی ہے تو یہ چند مخصوص ادارے بنانے سے نہیں، بلکہ ہر سرکاری سکول کو یکساں سہولیات دینے سے آئے گا۔ جس دن ہر سکول میں مکمل اساتذہ، معیاری عمارت، جدید لیب، لائبریری اور مناسب بجٹ ہوگا، تب ہی ہر بچہ آگے بڑھے گا۔
ایک اور سوال جو عوام کے ذہن میں بار بار ابھرتا ہے۔ کیا حکمران، وزراء اور بیوروکریٹس اپنے بچوں کو ان عام سرکاری سکولوں میں داخل کرائیں گے؟ جس دن کسی وزیر کا بچہ کسی دور دراز گاؤں کے پرائمری سکول میں عام بچوں کے ساتھ بیٹھے گا، اس دن عوام کا اعتماد بحال ہو جائے گا اور تب شاید الگ "ایمننس" یا "ایکسیلنس" سکول بنانے کی ضرورت بھی نہ رہے۔ تعلیم سیاسی تشہیر کا ذریعہ نہیں، قومی امانت ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر بچے کو یکساں مواقع فراہم کرے، نہ کہ چند بچوں کو سہولیات دے کر باقی لاکھوں کو دوسرے درجے کا شہری بنا دے۔ اگر داخلہ ٹیسٹ، اضافی فنڈز اور جدید سہولیات کسی ایک سکول کا حق ہیں تو یہی حق ہر سرکاری سکول اور ہر بچے کو ملنا چاہیے۔ تب ہی نتائج کا موازنہ منصفانہ ہوگا اور حقیقی تعلیمی انقلاب آئے گا۔