(+92) 319 4080233
کالم نگار

ڈاکٹر زرقا حمید

ڈاکٹر زرقا حمید

پروفائل | تمام کالمز
2026/07/26
موضوعات
میری چشم دید کہانی
میرے پاس ایک مریضہ کو لایا گیا تھا جو زندگی کی اخری سٹیج پر تھی میرے حساب اور تجربہ کے مطابق اس کے پاس 12 سے 16 گھنٹے کی مہلت تھی لیکن اس کی تکلیف انتہا پر تھی مجھے پتہ تھا اسے ہسپتال میں داخل کرنے کوئی فائدہ نہیں ہے لیکن اس کی اذیت کو دیکھتے ہوئے مجھے اللہ تعالی کا خوف اگیا اس پر رحم اگیا میں نے اس ہسپتال میں داخل کر لیا تھا کہ شاید اس کی تکلیف میں کوئی کمی لا سکوں لیکن میں اپنی لاکھ کوششوں کے باوجود بھی ایسا نہ کر سکی میں نے زندگی میں بہت سارے لوگوں کو موت کے بھیک مانگتے دیکھا ہے کیونکہ میں ایسے ہی پیشے سے وابستہ ہوں اور ان میں سے میں نے تحقیق کی ہے جتنے بھی لوگ تھے زیادہ تر نے کوئی نہ کوئی ایسا ظلم کیا تھا جس کی وجہ سے ان کی موت اتنی اذیت ناک دردناک اور عبرت ناک ہوئی ان میں سے ایک یہ خاتون بھی تھی اس خاتون کو پھیپھڑوں کا کینسر تھا کینسر کی وجہ سے پھیپھڑے بالکل ناکارہ ہو گئے تھے جان یا سانس جو بھی کہہ لیں صرف چھاتی میں اٹکی ہوئی تھی بظاہر وہ ہوش و حواس میں تھی بات کو سمجھ سکتی تھی جواب دے سکتی تھی لیکن اس کا نچلا دھڑ بے جان ہو چکا تھا کیونکہ میری نظر میں اس کے پاس صرف 12 سے 16 گھنٹے کا ٹائم تھا لیکن اج اس کو تین دن ہو گئے تھے اور وہ یوں ہی بسترے مرگ پر پڑی ہوئی تھی اب اس کے تکلیف اس انتہا کو پہنچ چکی تھی کہ باقی مریضوں نے اس کے ساتھ وارڈ میں رہنے سے انکار کر دیا تھا اور احتجاج شروع کر دیا تھا مجبورا مجھے الگ روم میں اسے شفٹ کرنا پڑا تھا اور وہ پرائیویٹ روم تھا اس کا خرچہ میں نے اپنی جیب سے ادا کیا تھا کیونکہ مجھے نہیں لگتا تھا اس کے ورثاء کو اس کی ذات میں کوئی دلچسپی تھی وہ لوگ چاہتے تھے کہ یہ بڑھیا جلد از جلد مرے اور ان کی جان چھوٹ جائے لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا زندگی اور قسمت نے ابھی اس کو مزید تکلیف دکھانا تھی اسے مزید جینا تھا شاید اس وجہ سے کہ جب تک اس کے گناہ میں کچھ کمی نہیں ہو جاتی یا گناہ کا کچھ کفارہ ادا ہو جاتا ۔

جب میں نے اپنی پوری کوشش کر لی لیکن اس کی طبیعت میں کوئی خاص بہترین نہ لا سکی بلکہ کچھ تو کیا بالکل بھی بہترین نہ سکی الٹا اس کی طبیعت بگڑتی گئی یہاں تک کہ وہ انتہا درجے کی اذیت میں مبتلا ہو گئی تو میں نے اس کے ورثاء کو بلایا اور ان کو بتایا کہ اس کی حالت بہتر ہونے والی نہیں ہے بس اپ اللہ تعالی سے دعا کریں کہ اللہ تعالی اس کا ایمان پر خاتمہ کر دے اور میں اس سے زیادہ مزید اس کو یہاں نہیں رکھ سکتی اس کے ورثاء جو اس کو شاید بوجھ ہی سمجھتے تھے وہ چاہتے تھے کہ ان کو یہ گھر نہ لے جانی پڑے اور گھر جا کر اس کی خدمت نہ کرنی پڑے نہ ہی اس کو وہاں سنبھالنا پڑے یہاں تک مجھے محسوس ہوا وہ لوگ اس کی ذمہ داری لینا ہی نہیں چاہتے تھے وہ بس دنیا کے لوگوں میں خود کو معزز رکھنے کے لیے اس کو یہاں تک لائے تھے جب میں اس مریضہ کو مزید یہاں رکھنے پر معذرت خواہ ہوئی تو انہوں نے مجھے کہا کہ اس کو کسی نہ کسی طرح مار دیں کوئی ایسا انجیکشن لگا دیں یا کسی نہ کسی طرح سے اس کو اگلے جہان پہنچا دیں تا کہ ان کی بھی اس ازمائش سے جان چھوٹ جائے اور وہ خاتون اور وہ لوگ بھی ازاد ہو جائیں ان کو بھی اسے مزید سنبھالنا نہ پڑے میں کسی بھی صورت کسی انسان کی جان نہیں لے سکتی تھی بلکہ میرا تو فرض ہے لوگوں کی جان بچاتی اس لیے میں نے ان کی اس بات کو ماننے سے انکار کر دیا ۔

مگر میں ان لوگوں کو رویے سے بہت متاثر ہوئی کہ وہ کیسے لوگ ہیں کیسے رشتے ہیں جو خود چاہتے ہیں کہ یہ خاتون مر جائے میں نے اس خاتون سے پوچھا جو مریضہ تھی کہ تم نے زندگی میں کوئی ایسا گناہ تو نہیں کیا جس کی معافی نہ مانگی ھو جو تمہاری نظر میں کوئی بہت بڑا گناہ ہو اس نے کچھ دیر سوچا اور پھر کہا نہیں اس نے بہت سوچ کر جواب دیا تھا میں اس کے جواب سے مطمئن نہیں تھی میں نے ایک بار پھر پوچھا تھوڑا ذہن پہ زور ڈالو اس نے تھوڑی دیر خاموشی میں گزاری اور پھر مجھے کہا کہ ایک چھوٹا سا گناہ میں نے کیا تھا میں نے پوچھا وہ کون سا گناہ تھا تو اس نے بتایا کہ میرے بھائی نے لو میرج کی تھی ہماری بھابی مجھے اور میری ماں کو پسند نہیں تھی میں اور میری ماں میرے بھائی کی شادی دوسری جگہ کروانا چاہتی تھیں لیکن میرا بھائی اپنی بیوی کو طلاق دینے کے لیے راضی نہیں تھا ہم نے لاکھ کوشش کی لیکن جب ہم کو اور کوئی صورت نظر نہ ائی تو ہم نے اپنی بھابھی پر بد کردار ہونے کا الزام لگا دیا اپنی اس بات کو ثابت کرنے کے لیے ہم نے اپنی ہی گلی کے ایک لڑکے کو تیار کر لیا ہے جس چند روپوں کے عوض یہ الزام قبول کر لیا یوں میری بھابھی پر الزام ثابت ہو گیا اور اسے طلاق ہو گئی ۔

اس کے بعد بھی ہم لوگوں کو کامیاب نہ ہوئے کیونکہ میرے بھائی نے دوبارہ کبھی مڑ کر شادی نہ کی بلکہ عورت ذات پر بھروسہ کرنا چھوڑ دیا یہاں تک کہ ہم سے بھی قطع تعلق کر لیا ہم لوگ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں اور میری بھابھی کو طلاق ہو گئی ہے اس کے بعد مڑ کر ہم نے کبھی اپنے بھابھی کی خبر نہیں لی تھی نہ جانے وہ کہاں گئی جیتی رہی یا مر گئی ۔

وہ وقت گزر گیا میں اس بات کو بھول گئی اج جب اپ نے پوچھا تو مجھے ذہن میں ایا کہ شاید وہ ایک ایسا گناہ ہے جس کی وجہ سے میں اس ازمائش سے گزر رہی ہوں ۔

جب میری مریضہ کی بات مکمل ہوگئی تو میں نے اسے کہا ہاں بالکل یہی ایک ایسا گناہ ہے اور اس گناہ کو چھوٹا گناہ نہ سمجھو کسی پر تہمت لگانے کا گناہ بہت بڑا ہے اور تم نے ایک تہمت لگائی پھر اس تہمت پر قائم رہی اور پھر اس تہمت کو ثابت کرنے کے لیے ایک جھوٹا گواہ پیدا کر لیا اس تہمت یا تو تم کو وہ خاتون معاف کر سکتی ہے جس پر تہمت لگائی تھی یا پھر اللہ تعالی کی ذات معاف کر سکتی ہے میں تم کو یہی مشورہ دوں کہ اگر ہو سکتا ہے تو اس کو خاتون کو ڈھونڈو اسے ہر حال میں ڈھونڈو ان سے معافی مانگو شاہد اللہ تعالی کی رضا کے لیے وہ تمہیں معاف کر دیں ۔

میری بات سن کر میری مریضہ نے روتے ہوئے جواب دیا کہ مجھے تو اب اس کا کچھ بھی اتہ پتہ نہیں ہے نہ ہی میں جا کر اسے ڈھونڈ سکتی ہوں اگر اس کے علاوہ کوئی اور حل ہے تو اپ وہ بتائیں میں نے ان سے کہا کہ اپ اللہ تعالی کے سامنے سچے دل سے توبہ تائب ہوں اگر ہو سکے تو اپنے ہاتھ سے کو صدقہ خیرات کرے اور مد نظر اس خاتون کو رکھیں جس پر اپ نے الزام لگایا تھا اور ساتھ ہی اللہ تعالی سے دعا کریں کہ اللہ تعالی اپ کو معاف کر دے ۔

میری اس بات پر میری مریضہ متفق ہو گئی اور اس نے اپنے خاندان سے کہہ کر اپنا پڑا ہوا زیور اپنے پاس منگوایا اس کے زیور مانگنے پر اس کے خاندان والوں نے پہلے ٹال مٹول سے کام لیا لیکن پھر اسے دے دیا اس نے زیور میرے حوالے کیا اور کہا کہ یہ بیچ کر کسی مستحق پر لگا دینا پہلے پہلے میں نے تو وہ زیور لینے سے انکار کر دیا لیکن جب وہ میری مریضہ رونے لگی تو مجھے اس پر رحم آگیا میں نے وہ زیور لیا اور اپنی والدہ کے حوالے کرتے ہوئے کہا کہ یہ کسی کی امانت ہے اور یہ کسی حق دار تک پہنچانی ہے یہ صدقہ ہے خیرات ہے ہو سکے تو جو کوئی حق دار ہو وہ ڈھونڈ کر اس پر لگانا میری والدہ نے یہ ہامی بھر لی انہوں نے وہ زیور بیچے اور بیچ کر دو یا تین بچیوں کو نکاح کروا دئیے۔

کیونکہ یہ صرف ایک چھوٹی سی تقریب تھی اس لیے اس پر تھوڑے سے اخراجات ہوئے باقی رقم انہوں نے نقدی کی صورت میں ان دونوں لڑکیوں کے حوالے کر دی تاکہ وہ ان کے انے والے وقت میں کام آ سکے یہ سارا کام محض تین سے چار دن میں ہوا تھا اور وہ تین چار دن میری مریضہ زندہ رہی جب میں نے اس کو بتایا کہ اس کی رقم حقدار تک پہنچا دی گئی ہے اور یہاں خرچ کی گئی ہے تو مریضہ مطمئن ہو گئی اور اس نے کہا کہ اگر ہو سکا تو میرے لیے ان یتیم بچیوں سے بھی کہنا میرے لیے دعا کریں میں نے کہا کہ میں بھی ضرور کروں گی میری والدہ بھی کریں گے اور وہ بچیاں بھی کریں گی ہم نے ان کو یہ ساری بات سمجھائی تھی کہ یہ رقم کس وجہ سے اپ تک پہنچی ہے ۔

پھر ایک دن میں صبح گئی تو وہ خاتون میرا انتظار کر رہی تھی وہ چہرے سے بہت مطمئن لگ رہی تھی اس نے مجھے بتایا کہ اج میرا شاید آخری دن ہوگا شاید وہ صدقہ میرے کام آگیا ہے میں نے پوچھا وہ کیسے تو اس نے بتایا کہ اج میں نے ایک خواب دیکھا ہے خواب میں مجھے وہی بھابھی ملی ہے خواب میں ۔

وہ اس وقت بھی میرے بھائی کی بیوی ہے مجھے گلے ملتی ہے اور میرا بوسہ لیتی ہے مجھے کہتی ہے کہ تمہیں سفر مبارک ہو ۔

خاتون نے مجھے خواب سنایا اور میں نے اس سے اجازت لے کر وارڈ کا چکر لگانا شروع کر دیا جب میں مڑ کر اس کے کمرے میں پہنچی تو ایک نظر سے چھت کو دیکھ رہی تھی میں وہاں پہنچی تو میں نے اسے بلایا اس نے میرے آنے کا کوئی نوٹس نہ لیا میں نے جب اس کی یہ حالت دیکھی تو سمجھ گئی اس کا آخری قریب آ گیا ہے میں نے اس کے سرہانے کھڑے ہو کر کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑا اور اتنی بلند اواز میں پڑھا کہ اس کے کانوں تک میری آواز جا سکے جب میری اواز اس نے سنی تو میری طرف دیکھا نہیں لیکن اس کے بھی ہونٹ ہلے جس سے مجھے لگا کہ وہ بھی کلمہ طیبہ اور کلمہ شہادت پڑ رہی ہے میں اس کے پاس کھڑی تھی اور میرے کھڑے کھڑے اس کے جسم سے جان نکل گئی ۔

لیکن مجھے یہ واقعہ اج بھی ہو بہو اسی طرح یاد ہے کیونکہ اس واقعے سے مجھے یہ اندازہ ہوا ہے کہ صدقہ کتنی بڑی چیز ہے اور کتنے بڑے بڑے گناہوں کی معافی صدقے کی وجہ سے مل جاتی ہے کتنی بڑی بڑی آزمائشیں صدقے کی وجہ سے ٹل جاتی ہیں اور صدق کی وجہ سے کتنی اسانی سے اللہ تعالی کی رضا حاصل ہو جاتی ہے میں اپ لوگوں کو کہتی ہوں کہ جب بھی اپ پر کوئی ازمائش ا جائے تو اپ صدقہ ضرور کریں اللہ تعالی اس صدقے کی وجہ سے اپ کی تمام مشکلات کو دور فرما دے گا یا حل فرما دے گا اپ کے لیے آسانیاں پیدا کر دے گا اگر میرے پر یقین نہ ہو تو اپ یہ بات ازما کر بھی دیکھ سکتے ہیں ۔

کالم نگار : ڈاکٹر زرقا حمید
| | |
45